حقیقةُ الوحی — Page 231
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۳۱ حقيقة الوح کے ساتھ قتل کروں۔ اور میں نے اُس کی نسبت سے یہ پیشگوئی کی کہ وہ غضب اللہ کی بیماری سے یعنی طاعون سے ہلاک ہو گا اور خدا اُس کو غارت کرے گا چنانچہ وہ ۴ را پریل ۱۹۰۶ء کو مع اپنے دونوں بیٹوں کے طاعون سے ہلاک ہو گیا۔ ۴۸۔ اٹھتالیسواں نشان یہ ہے کہ میں نے مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی نسبت ۲۲۱ پیشگوئی کی تھی کہ وہ تین سال کے عرصہ میں فوت ہو جائے گا چنانچہ وہ تین سال کی مدت کے اندر فوت ہو گیا۔ ۴۹۔ انچاسواں نشان یہ ہے کہ میں نے زلزلہ کی نسبت پیشگوئی کی تھی جو اخبار الحکم اور البدر میں چھپ گئی تھی کہ ایک سخت زلزلہ آنے والا ہے جو بعض حصہ پنجاب میں ایک سخت تباہی کا موجب ہوگا اور پیشگوئی کی تمام عبارت یہ ہے : زلزلہ کا دھکا۔ عفت الديار محلها و مقامها چنانچہ وہ پیشگوئی ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کو پوری ہوئی۔ ۵۰۔ پچاسواں نشان یہ ہے کہ میں نے پھر ایک پیشگوئی کی تھی کہ اس زلزلہ کے بعد بہار کے دنوں میں پھر ایک اور زلزلہ آئے گا۔ اس الہامی پیشگوئی کی ایک عبارت یہ تھی۔ پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔ چنانچہ ۲۸ فروری ۱۹۰۶ء کو وہ زلزلہ آیا اور کو ہستانی جگہوں میں بہت سا نقصان جانوں اور مالوں کے تلف ہونے سے ہوا۔ ۵۱۔اکاونواں نشان یہ ہے کہ پھر میں نے ایک اور پیشگوئی کی تھی کہ کچھ مدت تک زلزلے متواتر آتے رہیں گے۔ ان میں سے چار زلزلے بڑے ہوں گے اور پانچواں زلزلہ قیامت کا نمونہ ہو گا چنانچہ زلزلے اب تک آتے ہیں اور ایسے دو مہینے کم گذرتے ہیں جن میں کوئی زلزلہ نہیں آجاتا اور یقیناً یا درکھنا چاہیے کہ بعد اس کے سخت زلزلے آنے والے ہیں خاص کر پانچواں زلزلہ جو قیامت کا نمونہ ہوگا اور خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ یہ سب تیری سچائی کے لئے نشان ہیں۔ ۵۲ باونواں نشان یہ کہ پنڈت دیانند جو آریوں کے لئے بطور گرو کے تھا جب اُس کا فتنہ حد سے دیکھور سالہ دافع البلاء و معيار اهل الاصطفاء منه