حقیقةُ الوحی — Page 232
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۳۲ حقيقة الوحى بڑھ گیا تو مجھے دکھلایا گیا کہ اب اُس کی زندگی کا خاتمہ ہے۔ چنانچہ اسی سال میں وہ فوت ہو گیا۔ میں نے یہ پیشگوئی ایک آریہ شرمپت نام کو جو سا کن قادیان ہے قبل از وقوع بتلا دی تھی اور وہ اب تک زندہ ہے۔ ۵۳ - تر بین واں نشان۔ یہ ہے کہ اس شرمپت کا ایک بھائی سمبر داس نام ایک فوجداری مقدمہ میں شائد ڈیڑھ سال کے لئے قید ہو گیا تھا تب شرمیت نے اپنی اضطراب کی حالت میں مجھے ۲۲ سے دعا کی درخواست کی ۔ چنانچہ میں نے اس کی نسبت دعا کی تو میں نے بعد اس کے خواب میں دیکھا کہ میں اُس دفتر میں گیا ہوں جس جگہ قیدیوں کے ناموں کے رجسٹر تھے اور اُن رجسٹروں میں ہر ایک قیدی کی میعاد قید لکھی تھی تب میں نے وہ رجسٹر کھولا جس میں بسمبر داس کی قید کی نسبت لکھا تھا کہ اتنی قید ہے اور میں نے اپنے ہاتھ سے اُس کی نصف قید کاٹ دی اور جب اس کی قید کی نسبت چیف کورٹ میں اپیل کیا گیا تو مجھے دکھلایا گیا کہ انجام مقدمہ کا یہ ہو گا کہ مثل مقدمہ ضلع میں واپس آئے گی اور نصف قید بسمبر داس کی تخفیف کی جائے گی مگر بری نہیں ہوگا۔ اور میں نے وہ تمام حالات اُس کے بھائی لالہ شرمیت کو قبل از ظہور انجام مقدمہ بتلا دئے تھے اور انجام کارایسا ہی ہوا جو میں نے کہا تھا۔ ۵۴۔ چونواں نشان ۔ مولوی صاحبزادہ عبد اللطیف شہید کے قتل ہونے کی نسبت پیشگوئی ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔ ۵۵۔ پچپنواں نشان۔ میاں عبد اللہ سنوری کی ایک ناکامی کی نسبت پیشگوئی ہے اس پیشگوئی کے پورے ہونے کا گواہ خود میاں عبد اللہ سنوری ہے۔ ۵۶۔ چھپنواں نشان ۔ یہ کہ میں نے دہلی میں اپنی شادی کی نسبت پیشگوئی کی تھی۔ یہ الہام میں نے بہتوں کو بتایا تھا جواب تک زندہ موجود ہیں اور اس کی نسبت براہین میں ایک یہ الہام ہے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ سادات میں وہ رشتہ ہوگا۔اذکر نعمتی رئیت خدیجتی ۵۷۔ مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی کی نسبت براہین احمدیہ میں یہ پیشگوئی ہے کہ وہ میری نسبت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سادات کی نانی ہے پس اس الہام میں ایک تو یہ اشارہ تھا کہ تمہاری بیوی قوم کی سید ہوگی اور دوسری یہ پیشگوئی تھی کہ اس کی اولاد سے ایک بڑی نسل پیدا ہوگی ۔ منہ ☆