حقیقةُ الوحی — Page 227
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۲۷ حقيقة الوح مجھے بتلایا کہ ایسی کوشش کرنے والے نا مرادر ہیں گے چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا اس بارہ ۲۱۷ میں خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا انـا تـجـالدنا فانقطع العدو و اسبابه یعنی ہم نے تلوار کے ساتھ جنگ کیا پس نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن ہلاک ہو گیا اور اس کے اسباب بھی ہلاک ہوئے ۔ اس جگہ دشمن سے مراد ایک ڈپٹی انسپکٹر ہے جس نے ناحق عداوت سے مقدمہ بنایا تھا آخر طاعون سے ہلاک ہوا۔ ۳۴ ۔ چونتیسواں نشان یہ ہے کہ میرا ایک لڑکا فوت ہو گیا تھا اور مخالفوں نے جیسا کہ اُن کی عادت ہے اس لڑکے کے مرنے پر بڑی خوشی ظاہر کی تھی تب خدا نے مجھے بشارت دے کر فرمایا کہ اس کے عوض میں جلد ایک اور لڑکا پیدا ہو گا جس کا نام محمود ہوگا اور اُس کا نام ایک دیوار پر لکھا ہوا مجھے دکھایا گیا تب میں نے ایک سبز رنگ اشتہار میں ہزار ہا موافقوں اور مخالفوں میں یہ پیشگوئی شائع کی اور ابھی ستر دن پہلے لڑکے کی موت پر نہیں گزرے تھے کہ یہ لڑکا پیدا ہو گیا اور اس کا نام محمود احمد رکھا گیا۔ ۳۵۔ پینتیسواں نشان یہ ہے کہ پہلا لر کامحمود احمد پیدا ہونے کے بعد میرے گھر میں ایک اور لڑکا پیدا ہونے کی خدا نے مجھے بشارت دی اور اس کا اشتہار بھی لوگوں میں شائع کیا گیا چنانچہ دوسر الٹر کا پیدا ہوا اور اس کا نام بشیر احمد رکھا گیا۔ ۳۶۔ چھتیسواں نشان یہ ہے کہ بشیر احمد کے بعد ایک اور لڑکا پیدا ہونے کی خدا نے مجھے بشارت دی چنانچہ وہ بشارت بھی بذریعہ اشتہار لوگوں میں شائع کی گئی بعد اس کے تیسرا لڑکا پیدا ہوا اور اس کا نام شریف احمد رکھا گیا۔ ۳۷۔ سینتیسواں نشان یہ ہے کہ بعد اس کے خدا تعالیٰ نے حمل کے ایام میں ایک لڑکی کی بشارت دی اور اس کی نسبت فرمایا تنشأ في الحلية یعنی زیور میں نشو ونما پائے گی یعنی نہ خوردسالی میں فوت ہوگی اور نہ تنگی دیکھے گی۔ چنانچہ بعد اس کے لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام مبارکہ بیگم رکھا گیا اور اس کی پیدائش سے جب سات روز گذرے تو عین عقیقہ کے دن یہ خبر آئی کہ پنڈت لیکھرام پیشگوئی کے مطابق کسی کے ہاتھ سے مارا گیا تب ایک ہی وقت میں