حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 228

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۲۸ حقيقة الوح ۲۱۸ دو نشان پورے ہوئے ۔ ۳۸ ۔ اٹھتیسواں نشان یہ ہے کہ لڑکی کے بعد مجھے ایک اور پسر کی بشارت دی گئی چنانچہ وہ بشارت قدیم دستور کے موافق شائع کی گئی اور پھر لڑکا پیدا ہوا اور اس کا نام مبارک احمد رکھا گیا۔ ۳۹ - انتالیسواں نشان یہ ہے کہ مجھے وحی الہی سے بتلایا گیا کہ ایک اور لڑکی پیدا ہوگی مگر وہ فوت ہو جائے گی چنانچہ وہ الہام قبل از وقت بہتوں کو بتلایا گیا بعد اس کے وہ لڑکی پیدا ہوئی اور چند ماہ بعد فوت ہوگئی ۔ ۴۰ ۔ چالیسواں نشان یہ ہے کہ اس لڑکی کے بعد ایک اور لڑکی کی بشارت دی گئی جس کے الفاظ یہ تھے کہ دُخت کرام چنانچہ وہ الہام الحکم اور البدراخباروں میں اور شاید ان دونوں میں سے ایک میں شائع کیا گیا اور پھر اس کے بعد لڑ کی پیدا ہوئی جس کا نام امۃ الحفیظ رکھا گیا اور وہ اب تک زندہ ہے۔ ۴۱۔ اکتالیسواں نشان یہ ہے کہ عرصہ بین یا اکیس برس کا گزر گیا ہے کہ میں نے ایک اشتہار شائع کیا تھا جس میں لکھا تھا کہ خدا نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میں چار لڑکے دوں گا جو عمر یا دیں گے اس پیشگوئی کی طرف مواهب الرحمن صفحہ ۱۳۹ میں اشارہ ہے یعنی اس عبارت میں الحمد لله الذي وهب لى على الكبر اربعة من البنين و انجز وعده من الاحسان یعنی اللہ تعالیٰ کو حمد وثنا ہے جس نے پیرانہ سالی میں چارلڑ کے مجھے دیئے اور اپنا وعدہ پورا کیا ( جو میں چارلڑکے دوں گا ) چنانچہ وہ چارلڑ کے یہ ہیں محمود احمد، بشیر احمد، شریف احمد ، مبارک احمد جو زندہ موجود ہیں۔ ۴۲۔ بیالیسواں نشان یہ ہے کہ خدا نے نافلہ کے طور پر پانچویں لڑکے کا وعدہ کیا تھا جیسا کہ اسی کتاب مواہب الرحمن کے صفحہ ۱۳۹ میں اس طرح پر یہ پیشگوئی لکھی ہے: و بشرني بخامس في حين من الاحیان یعنی پانچواں لڑکا جو چار سے علاوہ بطور نافلہ پیدا ہونے