حقیقةُ الوحی — Page 219
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۱۹ حقيقة الوحي آکر چار پائی پر بیٹھے تو بیٹھتے ہی جان کندن کا غرغرہ شروع ہوا۔ اسی غرغرہ کی حالت میں انہوں نے مجھے کہا کہ دیکھا یہ کیا ہے اور پھر لیٹ گئے اور پہلے اس سے مجھے کبھی اس بات کے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا کہ کوئی شخص غرغرہ کے وقت میں بول سکے اور غرغرہ کی حالت میں صفائی اور استقامت سے کلام کر سکے۔ بعد اس کے عین اس وقت جب کہ آفتاب غروب ہوا وہ اس جہان فانی سے انتقال فرما گئے إِنَّا لِله وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون ۔ اور یہ ان سب الہاموں سے پہلا الہام اور (۲۱۰) پہلی پیشگوئی تھی جو خدا نے مجھ پر ظاہر کی دو پہر کے وقت خدا نے مجھے اس کی اطلاع دی کہ ایسا ہونے والا ہے اور غروب کے بعد یہ خبر پوری ہوگئی اور مجھے فخر کی جگہ ہے اور میں اس بات کو فراموش نہیں کروں گا کہ میرے والد صاحب کی وفات کے وقت خدا تعالیٰ نے میری عزا پر سی کی اور میرے والد کی وفات کی قسم کھائی جیسا کہ آسمان کی قسم کھائی۔ جن لوگوں میں شیطانی روح جوش زن ہے وہ تعجب کریں گے کہ ایسا کیونکر ہو سکتا ہے کہ خدا کسی کو اس قدر عظمت دے کہ اُس کے والد کی وفات کو ایک عظیم الشان صدمہ قرار دے کر اُس کی قسم کھاوے مگر میں پھر دوبارہ خدائے عزوجل کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ واقعہ حق ہے اور وہ خدا ہی تھا جس نے عزائر رسی کے طور پر مجھے خبر دی اور کہا کہ والسماء والطارق اور اسی کے موافق ظہور میں آیا۔ فالحمد للہ علی ذالک۔ ۲۲۔ بائیسواں نشان۔ یہ ہے کہ جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں جب مجھے یہ خبر دی گئی کہ میرے والد صاحب آفتاب غروب ہونے کے بعد فوت ہو جائیں گے تو بموجب مقتضائے بشریت کے مجھے اس خبر کے سننے سے درد پہنچا اور چونکہ ہماری معاش کے اکثر وجوہ انہیں کی زندگی سے وابستہ تھے اور وہ سرکار انگریزی کی طرف سے پنشن پاتے تھے اور نیز ایک رقم کثیر انعام کی پاتے تھے ۔ جو ان کی حیات سے مشروط تھی۔ اس لئے یہ خیال گذرا کہ اُن کی وفات کے بعد کیا ہوگا اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ شائد تنگی اور تکلیف کے دن ہم پر آئیں گے اور یہ سارا خیال بجلی کی چمک کی طرح ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں دل میں گذر گیا تب اُسی وقت غنودگی ہو کر یہ دوسرا الہام ہوا الیس الله بکاف عبده یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے