حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 214

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۱۴ حقيقة الوحي والدین کی بھی پرستش کرو کیونکہ وہ بھی مجازی رب ہیں اور ہر ایک شخص طبعا یہاں تک کہ درند چرند بھی اپنی اولاد کو اُن کی خورد سالی میں ضائع ہونے سے بچاتے ہیں ۔ پس خدا کی ربوبیت کے بعد اُن کی بھی ایک ربوبیت ہے اور وہ جوش ربوبیت کا بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اس جملہ معترضہ کے بعد پھر ہم اصل کلام کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت جو فرمایا کہ اگر وہ ہمارے پر کچھ افترا کرتا تو ہم اُس کو ہلاک کر دیتے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ غیرت اپنی ظاہر کرتا ہے کہ آپ اگر مفتری ہوتے تو آپ کو ہلاک کر دیتا مگر دوسروں کی نسبت یہ غیرت نہیں ہے اور دوسرے خواہ کیسا ہی خدا پر افتراء کریں اور جھوٹے الہام بنا کر خدا کی طرف منسوب کر دیا کریں اُن کی نسبت خدا کی غیرت جوش نہیں مارتی ۔ یہ خیال جیسا کہ غیر معقول ہے ایسا ہی خدا کی تمام کتابوں کے برخلاف بھی ہے اور ۲۰۲ اب تک تو ریت میں بھی یہ فقرہ موجود ہے کہ جو شخص خدا پر افتر اکرے گا اور جھوٹا دعویٰ نبوت کا کرے گا وہ ہلاک کیا جاوے گا۔ علاوہ اس کے قدیم سے علماء اسلام آیت لَوْ تَقَوْلَ عَلَيْنَا کو عیسائیوں اور یہودیوں کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کے لئے بطور دلیل پیش کرتے رہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ جب تک کسی بات میں عموم نہ ہو وہ دلیل کا کام نہیں دے سکتی ۔ بھلا یہ کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر افترا کرتے تو ہلاک کئے جاتے اور تمام کام بگڑ جاتا لیکن اگر کوئی دوسرا افترا کرے تو خدا ناراض نہیں ہوتا بلکہ اس سے پیار کرتا ہے اور اُس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ مہلت دیتا ہے اور اُس کی نصرت اور تائید کرتا ہے اس کا نام تو دلیل نہیں رکھنا چاہیے بلکہ یہ تو ایک دعوی ہے کہ جو خود دلیل کا محتاج ہے۔ افسوس میری عداوت کے لئے ان لوگوں کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کے نشانوں پر بھی حملے کرنے لگے۔ چونکہ ان لوگوں کو معلوم ہے کہ میرے اس دعوے وحی اور الہام پر پچیس سال سے زیادہ گذر چکے ہیں جو آنحضرت کے ایام بعثت سے بھی زیادہ ہیں کیونکہ وہ تیس برس تھے اور یہ میں سال کے قریب اور ابھی