حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 215

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۱۵ حقيقة الوحي معلوم نہیں کہ کہاں تک خدا تعالیٰ کے علم میں میرے ایام دعوت کا سلسلہ ہے اس لئے یہ لوگ باوجود مولوی کہلانے کے یہ کہتے ہیں کہ ایک خدا پر افترا کرنے والا اور جھوٹا ملہم بننے والا اپنے ابتدائے افترا سے تمہیں سال تک بھی زندہ رہ سکتا ہے اور خدا اس کی نصرت اور تائید کر سکتا ہے اور اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کرتے ۔ اے بے باک لوگو! جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔ جو کچھ خدا نے اپنے لطف وکرم سے میرے ساتھ معاملہ کیا یہاں تک کہ اس مدت دراز میں ہر ایک دن میرے لئے ترقی کا دن تھا اور ہر ایک مقدمہ جو میرے تباہ کرنے کے لئے اُٹھایا گیا خدا نے دشمنوں کو رسوا کیا۔ اگر اس مدت اور اُس تائید اور نصرت کی تمہارے پاس کوئی نظیر ہے تو پیش کرو ور نه بموجب آیت لَوْ تَقَولَ عَلَيْنَا یہ نشان بھی ثابت ہو گیا اور تم اس سے پوچھے جاؤ گے۔ ۱۹۔ انیسواں نشان یہ ہے کہ خواجہ غلام فرید صاحب نے جو نواب بہاول پور کے پیر تھے میری تصدیق کے لئے ایک خواب دیکھا جس کی بنا پر میری محبت خدا تعالیٰ نے اُن کے دل میں ڈال دی اور اسی بنا پر کتاب اشارات فریدی میں جو خواجہ صاحب موصوف کے ملفوظات ہیں جا بجا (۲۰۷) خواجہ صاحب موصوف میری تصدیق فرماتے ہیں۔ اہل فقر کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ ظاہری جھگڑوں میں بہت کم پڑتے ہیں اور جو کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن کو بذریعہ خواب یا کشف یا الہام پتہ ملتا ہے اس پر ایمان لاتے ہیں۔ پس چونکہ خواجہ غلام فرید صاحب پیر صاحب العلم کی طرح پاک باطن تھے اس لئے خدا نے اُن پر میری سچائی کی حقیقت کھول دی اور کئی مولوی جیسے مولوی غلام دستگیر خواجہ صاحب کو میرا مکذب بنانے کے لئے آپ کے گاؤں میں پہنچے جیسا کہ کتاب اشارات فریدی میں خواجہ صاحب نے خود یہ حالات بیان کئے ہیں اور بعض غزنویوں کا بھی خواجہ صاحب موصوف کے پاس خط پہنچا مگر آپ نے یہ یادر ہے کہ اگر میرے زمانہ الہام کو اس تاریخ سے لیا جائے جب اول حصہ براہین احمدیہ کا لکھا گیا تھا تب تو اس سال سے میرے الہام کے زمانہ کو ستائیس سال کے قریب ہوتے ہیں اور جب براہین احمدیہ کے چہارم حصہ سے شمار کیا جائے تو تب پچیس سال گذر گئے ہیں اور جب وہ زمانہ لیا جائے کہ جب پہلے الہام شروع ٣٠٠ ہوا تب تیس سال ہوتے ہیں ۔ منہ الحاقة : ۴۵