حقیقةُ الوحی — Page 212
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۱۲ حقيقة الوحي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا کو پیروں کے نیچے رکھ کر رفع جسمانی ہونے کے قائل ہیں اور مجھے کہتے ہیں کہ یہ دجال ہے کیونکہ لکھا ہے کہ میں دجال آئیں گے وہ نہیں سوچتے کہ اگر تمیں دجال آنے والے تھے تو اس حساب کی رو سے ہر ایک دجال کے مقابل پر تمیں مسیح بھی تو چاہیے تھے یہ کیا غضب ہے کہ دجال تو تمہیں آگئے مگر مسیح ایک بھی نہ آیا۔ یہ امت کیسی بد قسمت ہے کہ اس کے حصہ میں دجال ہی رہ گئے اور بچے مسیح کا منہ دیکھنا اب تک نصیب نہ ہوا حالانکہ اسرائیلی سلسلہ میں تو صد با نبی آئے تھے۔ غرض جس سلسلہ میں عبداللطیف شہید جیسے صادق اور ملہم خدا نے پیدا کئے جنہوں نے جان بھی اس راہ میں قربان کر دی اور خدا سے الہام پا کر میری تصدیق کی ایسے سلسلہ پر اعتراض کرنا کیا یہ تقویٰ میں داخل ہے ایک پارسا طبع صالح اہل علم کا ایک جھوٹے انسان کے لئے اس قدر عاشقانہ جوش کب ہو سکتا ہے۔ کس پہر کے سرندید جان نفشاند عشق است که این کار بصد صدق کناند عشق است که در آتش سوزاں بنشاند عشق است که بر خاک مذلت غلطاند بے عشق دلے پاک شود من نپذیرم عشق است کزیں دام بیکدم بر ہاند صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف شہید نے اپنے خون کے ساتھ سچائی کی گواہی دی الاستقامت فوق الکرامت مگر آج کل کے اکثر علماء کا یہ قاعدہ ہے کہ دودور و پیہ سے اُن کے فتوے بدل جاتے ہیں اور اُن کی باتیں خدا کے خوف سے نہیں بلکہ نفس کے جوش سے ہوتی ہیں لیکن عبد اللطیف شہید مرحوم وہ صادق اور متقی خدا کا بندہ تھا جس نے خدا کی راہ میں نہ اپنی بیوی کی پروا کی نہ بچوں کی نہ اپنی جان عزیز کی۔ یہ لوگ ہیں جو حقانی علماء ہیں جن کے اقوال و اعمال پیروی کے لائق ہیں جنہوں نے اخیر تک خدا کی راہ میں اپنا صدق نباہ دیا۔ از بندگان نفس رو آں یگان میپرس ہر جا کہ گرد خاست سوارے دران بجو اں کس کہ ہست از پئے آن یار بے قرار رو محبتش گزین و قرارے دران بجو ۲۰۴ بنی اسرائیل: ۹۴