حقیقةُ الوحی — Page 211
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۱۱ حقيقة الوحى کئی مرتبہ امیر نے فہمائش کی کہ اُس شخص کی بیعت اگر چھوڑ دو تو پہلے سے بھی زیادہ آپ کی عزت کی جائے گی مگر انہوں نے کہا کہ میں جان کو ایمان پر مقدم نہیں رکھ سکتا ۔ آخر انہوں نے اس راہ میں جان دی اور کہا کہ اس راہ میں خدا کی رضا مندی کے لئے جان دینا پسند کرتا ہوں ۔ تب وہ پتھروں سے سنگسار کئے گئے اور ایسی استقامت دکھلائی کہ ایک آہ بھی ان کے منہ سے نہ نکلی اور چالیس دن تک ان کی نعش پتھروں میں پڑی رہی اور پھر ایک مرید احمد نور نام نے اُن کی لاش دفن کی اور بیان کیا گیا ہے کہ اُن کی قبر سے اب تک مشک کی خوشبو آتی ہے۔ اور ایک بال اُن کا اس جگہ پہنچایا گیا جس سے اب تک مشک کی خوشبو آتی ہے اور ہمارے بیت الدعاء کے ایک گوشہ میں ایک شیشہ میں آویزاں ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہ کاروبار محض ایک مفتری کا فریب تھا تو شہید مرحوم کو اتنے دور دراز فاصلہ پر سے کیوں میری سچائی کے بارہ میں الہام ہوئے اور کیوں متواتر خوا ہیں آئیں وہ تو میرے نام سے بھی بے خبر تھے محض خدا نے ان کو میری خبر دی کہ پنجاب میں مسیح موعود پیدا ہو گیا تب انہوں نے پنجاب کی خبروں کی تفتیش شروع کی اور جب یہ پستہ مل گیا کہ در حقیقت ایک شخص قادیان متعلقہ پنجاب ضلع گورداسپور میں (۲۰۳) مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تب سب کچھ چھوڑ کر میری طرف بھاگے اور قریباً دو ماہ یہاں رہے اور پھر واپسی پر شریر مخبروں کی مخبری سے گرفتار کئے گئے اور جب گرفتاری کے بعد کہا گیا کہ اپنی بیوی اور بچوں سے ملاقات کر لو تو کہا کہ اب مجھ کو اُن کی ملاقات کی ضرورت نہیں میں اُن کو خدا کے حوالہ کرتا ہوں اور جب حکم سنایا گیا کہ آپ سنگسار کئے جاؤ گے تو کہا میں چالیسی دن سے زیادہ مردہ نہیں رہوں گا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ جو خدا کی کتابوں میں لکھا گیا کہ مومن مرنے سے چند روز بعد یا نہایت چالیس دن تک زندہ کیا جاتا اور آسمان کی طرف اُٹھایا جاتا ہے۔ یہ وہی جھگڑا ہے جو اب تک ہم میں اور ہمارے مخالفوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع کی نسبت چلا آتا ہے۔ ہم موافق کتاب اللہ کے ان کے رفع روحانی ہونے کے قائل ہیں اور وہ کتاب اللہ کی مخالفت کر کے اور خدا کے حکم قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي