حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 210

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۱۰ حقيقة الوحي یہ تینوں پیشگوئیاں ایک دوسری کو قوت دیتی ہیں اور باعث تظاہر کے یقین کی حد تک پہنچ گئی ہیں جن سے کوئی عقلمند انکار نہیں کر سکتا۔ ۱۲۔ نشان۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیشگوئی زلزلوں اور طاعون کی جیسا کہ ابھی لکھا گیا ہے کہ مسیح موعود کا اُس وقت ظاہر ہونا ضروری ہے۔ ۱۳ نشان۔ چھ ہزار برس کے آخر پر مسیح موعود کے ظاہر ہونے کی پیشگوئی جو تیل سے استنباط کی گئی ہے۔ ۱۴۔ نشان ۔ میری نسبت نعمت اللہ ولی کی پیشگوئی جس کے اشعار میں نے اپنی کتاب نشان آسمانی میں نقل کئے ہیں۔ ۱۵۔ نشان ۔ میری نسبت گلاب شاہ جمال پوری کی پیشگوئی جس کو میں نے ازالہ اوہام میں مفصل لکھ دیا ہے۔ ۱۶۔ نشان۔ میری نسبت پیر صاحب العلم سندھی نے جس کے ایک لاکھ مرید تھے اور وہ اپنی نواح میں مشہور بزرگ تھے خواب میں دیکھا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سچا ہے اور ہماری طرف سے ہے۔ اس خواب کو میں تحفہ گولڑویہ میں شائع کر چکا ہوں اس لئے تفصیل کی ضرورت نہیں۔ ۱۷۔ نشان۔ مولوی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کا الہام کہ یہ شخص حق پر ہے اور مسیح موعود بھی ہے۔ اور اسکے ساتھ کئی متواتر خوا ہیں تھیں جنہوں نے مولوی صاحب موصوف کو دوه استقامت بخشی که آخر انہوں نے میری تصدیق کے لئے کابل کی سرزمین میں امیر کابل کے حکم سے جان دی اُن کو ایک پادری صاحب لکھتے ہیں کہ طاعون اور زلزلوں کا آنا مسیح موعود ہونے کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ ایسے زلزلے اور ایسی طاعون ہمیشہ دنیا میں ظاہر ہوتے رہے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ زلزلے اور یہ طاعون بلا شبہ پنجاب اور ہندوستان میں غیر معمولی ہیں۔ صد ہا برس تک بھی اس کا پتہ نہیں لگتا۔ اور کیا باعتبار کمیت اور کیا باعتبار کیفیت یہ طاعون اور زلزلے خارق عادت ہیں۔ اگر پادری صاحب کو انکار ہے تو اس کی کوئی نظیر پیش کریں ماسوا اس کے اگر پہلے دنیا میں طاعون ہوتی رہی ہے اور زلزلے آتے رہے ہیں اور لڑائیاں ہوتی رہی ہیں تو اُس وقت مسیح موعود ہونے کا کوئی مدعی موجود نہ تھا۔ پس جبکہ ایسے غیر معمولی زلزلوں اور طاعون سے پہلے ایک مدعی مسیحیت موجود ہو گیا اور بعد اس کے یہ سب علامتیں انجیل کے موافق ظہور میں آئیں تو کیوں اس سے انکار کیا جاوے۔ ہاں آسمان کے ستارے زمین پر نہیں گرے۔ سو اس کا جواب ہیئت دانوں سے پوچھ لو کہ کیا ستاروں کے گرنے سے انسان اور حیوان زندہ رہ سکتے ہیں۔ منہ