حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 202

روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الوحي ایک وہ وقت تھا کہ خدا کے بچے مسیح کو صلیب نے توڑا اور اس کو زخمی کیا تھا اور آخری زمانہ میں یہ مقدر تھا کہ مسیح صلیب کو توڑے گا یعنی آسمانی نشانوں سے کفارہ کے عقیدہ کو دنیا سے اُٹھاوے گا۔ عوض معاوضه گله ندارد ۲- نشان صحیح دارقطنی میں یہ ایک حدیث ہے کہ امام محمد باقر فرماتے ہیں ان لمهدينا ۱۲ ايتين لم تكونا منذ خلق السماوات والارض ينكسف القمر لاوّل ليلة من رمضان وتنكسف الشمس فى النصف منه۔ ترجمه یعنی ہمارے مہدی کے لئے دونشان ہیں اور جب سے کہ زمین و آسمان خدا نے پیدا کیا یہ دو نشان کسی اور مامور اور رسول کے وقت میں ظاہر نہیں ہوئے ان میں سے ایک یہ ہے کہ مہدی معہود کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند کا گرہن اُس کی اوّل رات میں ہوگا یعنی تیرھویں تاریخ میں اور سورج کا گرہن اُس کے دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہوگا۔ یعنی اس رمضان کے مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ کو اور ایسا واقعہ ابتدائے دنیا سے کسی رسول یا نبی کے وقت میں بھی ظہور میں نہیں آیا صرف مہدی معہود کے وقت اُس کا ہونا مقدر ہے۔ اب تمام انگریزی اور اُردو اخبار اور جملہ ماہرین ہیئت اس بات کے گواہ ہیں کہ میرے زمانہ میں ہی جس کو عرصہ قریبا بارہ سال کا گذر چکا ہے اسی صفت کا چاند اور سورج ۱۹۵) کا گرہن رمضان کے مہینہ میں وقوع میں آیا ہے اور جیسا کہ ایک اور حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ گرہن دو مرتبہ رمضان میں واقع ہو چکا ہے۔ اوّل اس ملک میں دوسرے امریکہ میں اور دونوں مرتبہ انہیں تاریخوں میں ہوا ہے جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے اور چونکہ اس گرہن کے وقت میں مہدی معہود ہونے کا مدعی کوئی زمین پر بجز میرے نہیں تھا اور نہ کسی نے میری طرح اس گرہن کو اپنی مہدویت کا نشان قرار دے کر صد با اشتہار اور رسالے اُردو اور فارسی اور عربی میں دنیا میں شائع کئے اِس لئے یہ نشانِ آسمانی میرے لئے متعین ہوا۔ دوسری اس پر دلیل یہ ہے کہ بارہ برس پہلے اس نشان کے ظہور سے خدا تعالیٰ نے اس نشان کے بارے میں مجھے خبر دی تھی کہ ایسا نشان ظہور میں آئے گا۔ اور وہ خبر براہین احمدیہ میں درج ہو کر قبل اس کے جو یہ نشان ظاہر ہو لاکھوں آدمیوں میں مشتہر ہو چکی تھی۔ ۱۲