حقیقةُ الوحی — Page 201
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۰۱ حقيقة الوحي علماء امت میں مسلم چلی آئی ہے اب اگر میرے دعوے کے وقت اس حدیث کو وضعی بھی قرار دیا جائے تو ان مولوی صاحبوں سے یہ بھی سچ ہے بعض اکابر محدثین نے اپنے اپنے زمانہ میں خود مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ بعض نے کسی دوسرے کے مجدد بنانے کی کوشش کی ہے۔ پس اگر یہ حدیث صحیح نہیں تو انہوں نے دیانت سے کام نہیں لیا اور ہمارے لئے یہ ضروری نہیں کہ تمام مجددین کے نام ہمیں یاد ہوں یہ علم محیط تو خاصہ خدا تعالیٰ کا ہے ہمیں عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں مگر اُسی قدر جو خدا بتلاوے۔ ماسوا اسکے یہ اُمت ایک بڑے حصہ دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور خدا کی مصلحت کبھی کسی ملک میں مجدد پیدا کرتی ہے اور کبھی کسی ملک میں پس خدا کے کاموں کا کون پورا علم رکھ سکتا ہے اور کون اُس کے غیب پر احاطہ کر سکتا ہے۔ بھلا یہ تو بتلاؤ کہ حضرت آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک ہر ایک قوم میں نبی کتنے گذرے ہیں۔ اگر تم یہ بتلا دو گے تو ہم مجدد بھی بتلا دیں گے۔ ظاہر ہے کہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا اور یہ بھی اہل سنت میں متفق علیہ امر ہے کہ آخری مجدد اس اُمت کا مسیح موعود ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہو گا۔ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ یہ آخری زمانہ ہے یا نہیں؟ یہود و نصاری دونوں تو میں اس پر اتفاق رکھتی ہیں کہ یہ آخری زمانہ ہے اگر چاہو تو پوچھ کر دیکھ لو۔ مری پڑ رہی ہے زلزلے آرہے ہیں ۔ ہر ایک (۱۹۴) قسم کی خارق عادت تباہیاں شروع ہیں پھر کیا یہ آخری زمانہ نہیں؟ اور صلحاء اسلام نے بھی اس زمانہ کو آخری زمانہ قرار دیا ہے اور چودھویں صدی میں سے بھی تیس سال گذر گئے ہیں۔ پس یہ قوی دلیل اس بات پر ہے کہ یہی وقت مسیح موعود کے ظہور کا وقت ہے اور میں ہی وہ ایک شخص ہوں جس نے اس صدی کے شروع ہونے سے پہلے دعوی کیا۔ اور میں ہی وہ ایک شخص ہوں جس کے دعوے پر پچیس برس گزر گئے اور اب تک زندہ موجود ہوں اور میں ہی وہ ایک ہوں جس نے عیسائیوں اور دوسری قوموں کو خدا کے نشانوں کے ساتھ ملزم کیا۔ پس جب تک میرے اس دعوے کے مقابل پر انہیں صفات کے ساتھ کوئی دوسرا مدعی پیش نہ کیا جائے تب تک میرا یہ دعویٰ ثابت ہے کہ وہ مسیح موعود جو آخری زمانہ کا مجدد ہے وہ میں ہی ہوں۔ زمانہ میں خدا نے نو بتیں رکھی ہیں۔