حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 197

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۹۷ حقيقة الوحي جو جو اعتراض میری پیشگوئیوں پر ڈاکٹر عبدالحلیم خان اور اُس کے ہم جنس مولویوں نے کئے ہیں میں دکھلا سکتا ہوں کہ اولوالعزم نبیوں میں سے کوئی ایسا نبی نہیں جس کی کسی پیشگوئی پر انہیں اعتراضات کے مشابہ کوئی اعتراض نہ ہو اور صرف یونس کا قصہ میں پیش نہیں کروں گا بلکہ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح اور حضرت سید الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں میں یا خدا کی کلام میں اُس کی نظیر دکھلاؤں گا مگر میں یہ سننا چاہتا ہوں کہ کیا اس وقت یہ تمام لوگ ان تمام نبیوں کو چھوڑنے کے لئے طیار ہیں اور کیا وہ اس بات کے لئے مستعد بیٹھے ہیں کہ اس ثبوت کے پیش کرنے کے بعد جیسا کہ وہ مجھے گالیاں دیتے ہیں ان کو بھی گالیاں دیں گے اور جیسا کہ مجھے کا ذب ٹھیرایا ہے انہیں بھی کاذب ٹھیر اویں گے۔ اے نادانو! اور آنکھوں کے اندھو! کیوں اپنی عاقبت خراب کرتے ہو۔ ہائے افسوس کیوں تم دانستہ آگ میں پڑتے ہو اور کیوں تم اس قدر ایمان اور تقویٰ سے دور چلے گئے کہ (۱۹۰) تمہارے دل میں یہ خوف بھی نہیں رہا کہ یہ اعتراض کس کس پاک اور مقدس پر وارد ہوں گے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے اِن يك كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفُ كَذَّابٌ یعنی اگر یہ نبی جھوٹا ہے تو خود تباہ ہو جائے گا کیونکہ خدا کذاب کے کام کو انجام تک نہیں پہنچا تا وجہ یہ کہ اس سے صادق اور کاذب کا معاملہ باہم مشتبہ ہو جائے گا۔ اور اگر یہ رسول سچا ہے تو اس کی بعض وعید کی پیشگوئیاں ضرور وقوع میں آئیں گی۔ پس اس آیت میں جو بعض کا لفظ ہے صریح طور پر اس میں یہ اشارہ ہے کہ سچا رسول جو و عید کی پیشگوئیاں یعنی عذاب کی پیشگوئیاں کرتا ہے تو یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ سب کی سب ظہور میں آجائیں ہاں یہ ضروری ہے کہ بعض اُن میں سے ظہور میں آجائیں جیسا کہ یہ آیت فرما رہی ہے يصبكم بعض الذي يعد كم اب آنکھ کھول کر دیکھو کہ وہ وعید کی چند پیشگوئیاں جو میری طرف سے شائع ہوئی تھیں اُن میں سے کس قوت اور شان کے ساتھ لیکھرام کی نسبت پیشگوئی پوری ہوئی جس کی نسبت یہ بھی بتلایا گیا تھا کہ وہ معمولی موت سے نہیں مرے گا بلکہ خدا کا غضب کسی حربہ سے اُس کا کام تمام کرے گا اور یہ بھی بتلایا گیا تھا کہ عید کے متصل اُس کی موت کا واقعہ ہوگا اور یہ بھی المؤمن : ٢٩