حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 196

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۹۶ حقيقة الوحى ایک آنے والی بلا کی خبر دیتا ہے اور جب اس کے دفع کے لئے دعا کی جاتی ہے تو پھر دوسرا الہام ہوتا ہے کہ ہم نے اس بلا کو دفع کر دیا۔ پس اگر اس طرح پر وعید کی پیشگوئی ضروری الوقوع ہے تو میں بیسیوں دفعہ جھوٹا بن سکتا ہوں اور اگر ہمارے مخالفوں اور بداندیشوں کو اس قسم کی تکذیب کا شوق ہے اگر چاہیں تو میں اس قسم کی کئی پیشگوئیاں اور پھر ان کی منسوخی کی ان کو اطلاع دے دیا (۱۸۹) کروں۔ ہماری اسلامی تفسیروں میں اور نیز بائیل میں بھی لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کی نسبت وقت کے نبی نے پیشگوئی کی تھی کہ اُس کی عمر پندرہ دن رہ گئی ہے مگر وہ بادشاہ تمام رات روتا رہا تب اُس نبی کو دوبارہ الہام ہوا کہ ہم نے پندرہ دن کو پندرہ سال کے ساتھ بدل دیا ہے۔ یہ قصہ جیسا کہ میں نے لکھا ہے ہماری کتابوں اور یہود اور نصاریٰ کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب کیا تم یہ کہو گے کہ وہ نبی جس نے بادشاہ کی عمر کے بارے میں صرف پندرہ دن بتلائے تھے اور پندرہ دن کے بعد موت بتلائی تھی وہ اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلا۔ یہ خدا تعالیٰ کی رحمت ہے کہ وعید کی پیشگوئیوں میں منسوخی کا سلسلہ اس کی طرف سے جاری ہے یہاں تک کہ جو جہنم میں ہمیشہ رہنے کا و عید قرآن شریف میں کافروں کے لئے ہے وہاں بھی یہ آیت موجود ہے إِلَّا مَا شَاءَ رَبِّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّال لما یرید یعنی کا فر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے لیکن اگر تیرا رب چاہے کیونکہ جو کچھ وہ چاہتا ہے اُس کے کرنے پر وہ قادر ہے لیکن بہشتیوں کے لئے ایسا نہیں فرمایا کیونکہ وہ وعدہ ہے وعید نہیں ہے کیا اخیر پر میں بڑے زور سے اور بڑے دعوے سے اور بڑی بصیرت سے یہ کہتا ہوں کہ قرآن شریف میں کفار اور مشرکین کی سزا کے لئے بار بار ابدی جہنم کا ذکر ہے اور بار بار فرمایا ہے خُلِدِينَ فِيهَا أَبَدًانے اور پھر باوجود اس کے قرآن شریف میں دوزخیوں کے حق میں اِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ سے بھی موجود ہے اور حدیث میں بھی ہے کہ یاتی عـلـى جهنم زمان ليس فيها احد ونسيم الصبا تحرک ابوابها یعنی جہنم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں کوئی بھی نہ ہوگا اور نسیم صبا اس کے کواڑوں کو ہلائے گی اور بعض کتب میں زبانِ پارسی میں یہ حدیث لکھی ہے۔ ایں مُشتِ خاک را گر نه منم چه کنم - هنه هود ۱۰۸ النساء : ١٧٠ هود : ۱۰۸