حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 195

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۹۵ حقيقة الوحي آگئی کیونکہ وہ احمد بیگ کی بیوی تھی اور احمد بیگ کے مرنے سے بڑا خوف اُس کے اقارب پر غالب آگیا یہاں تک کہ بعض نے اُن میں سے میری طرف بجز و نیاز کے ساتھ خط بھی لکھے کہ دعا کرو پس خدا نے اُن کے اس خوف اور اس قدر عجز و نیاز کی وجہ سے پیشگوئی کے وقوع میں تاخیر ڈال دی اور جو کچھ مولوی محمد حسین اور اُن کے رفقاء کی نسبت پیشگوئی خدا تعالیٰ کے الہام میں لکھی گئی تھی اس کی نسبت کوئی تاریخ مقرر نہ تھی صرف میری دعا میں اپنے الفاظ تھے الہامی الفاظ نہ تھے۔ اور صرف میری طرف سے دعا تھی کہ اتنی مدت میں ایسا ہو۔ سو (۱۸۸) خداوند تعالیٰ اپنی وحی کا پابند ہوتا ہے اس پر فرض نہیں ہے کہ جو اپنی طرف سے التجا کی جائے بعینہ اُس کو ملحوظ رکھے۔ اس لئے پیشگوئی میں جو عربی میں شائع ہو چکی ہے کوئی مدت مقرر نہیں ہے کہ فلاں مہینہ یا برس میں رُسوا کیا جائے گا اور یہ تو معلوم ہے کہ وعید کی پیشگوئیوں میں خدا تعالیٰ اختیار رکھتا ہے کہ اُن کو کسی کے عجز و نیاز سے یا اپنی طرف سے ملتوی کر دے۔ تمام اہل سنت بلکہ تمام انبیاء یھم السلام کا اس پر اتفاق ہے کیونکہ وعید کی پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بلا کسی کے لئے مقدر ہوتی ہے جو صدقات خیرات اور توبہ واستغفار سے مل سکتی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ اس بلا کو صرف اپنے علم میں رکھے اور اپنی وحی کے ذریعہ سے کسی اپنے مرسل پر ظاہر نہ کرے تب تو وہ صرف بلائے مقدر کہلاتی ہے کہ جو خداتعالیٰ کے ارادہ میں مخفی ہوتی ہے اور اگر اپنی وحی کے ذریعہ سے کسی اپنے رسول کو اس بلا کا علم دیدے تب وہ پیشگوئی ہو جاتی ہے اور دنیا کی تمام قو میں اس بات پر اتفاق رکھتی ہیں کہ آنے والی بلائیں خواہ وہ پیشگوئی کے رنگ میں ظاہر کی جائیں اور خواہ صرف خدا تعالی کے ارادہ میں مخفی ہوں وہ صدقہ خیرات اور توبہ واستغفار سے مل سکتی ہیں تبھی تو لوگ مصیبت کے وقت میں صدقہ خیرات دیا کرتے ہیں ورنہ بے فائدہ کام کون کرتا ہے۔ اور تمام نبیوں کا اس پر اتفاق ہے کہ صدقہ، خیرات اور توبہ واستغفار سے رڈ بلا ہوتا ہے اور میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ بسا اوقات خدا تعالیٰ میری نسبت یا میری اولاد کی نسبت یا میرے کسی دوست کی نسبت