حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 188

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۸۸ حقيقة الوحي نہیں ہوا تو اُس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے ہمیں اس بحث کی ضرورت نہیں ہاں جو اسلام سے محض بے خبر ہے اگر بے خبری میں مرجاوے جیسے نابالغ بچے اور مجانین یا کسی ایسے ملک کے رہنے والے جہاں اسلام نہیں پہنچا وہ معذور ہیں ۔ از انجملہ یہ امر قابل تذکرہ ہے کہ عبدالحکیم خان نے اپنے دوسرے ہم جنسوں کی پیروی کر کے میرے پر یہ الزام لگائے ہیں کہ میں جھوٹ بولتا رہا ہوں اور میں دجال ہوں اور حرام خور ہوں اور خائن ہوں اور اپنے رسالہ المسیح الدجال میں طرح طرح کی میری عیب شماری کی ہے چنانچہ (۱۸۲) میرا نام شکم پرست نفس پرست، متکبر ، دجال، شیطان، جاہل، مجنون، کذاب، سست ، حرام خور عہد شکن، خائن رکھا ہے اور دوسرے کئی عیب لگائے ہیں جو اُس کی کتاب اسیح الدجال میں لکھے ہوئے ہیں اور یہی تمام عیب ہیں جو اب تک یہودی حضرت عیسی پر لگاتے ہیں۔ پس یہ خوشی کی بات ہے کہ اس اُمت کے یہودیوں نے بھی وہی عیب میرے پر لگائے مگر میں نہیں چاہتا کہ ان تمام الزاموں اور گالیوں کا جواب دوں بلکہ میں ان تمام باتوں کو خدا تعالیٰ کے حوالہ کرتا ہوں اگر میں ایسا ہی ہوں جیسا کہ عبدالحکیم اور اُس کے ہم جنسوں نے مجھے سمجھا ہے تو پھر خدا تعالی سے بڑھ کر میرا دشمن اور کون ہوگا اور اگر میں خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسا نہیں ہوں تو پھر میں یہی بہتر طریق سمجھتا ہوں کہ ان باتوں کا جواب خدا تعالیٰ پر چھوڑ دوں ۔ ہمیشہ اسی طرح پر سنت اللہ ہے کہ جب کوئی فیصلہ زمین پر ہو نہیں سکتا تو اس مقدمہ کو جو اُس کے کسی رسول کی نسبت ہوتا ہے خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور آپ فیصلہ کرتا ہے اور اگر مخالفوں میں سے کوئی غور کرے تو اُن کے الزاموں سے بھی میری ایک کرامت ہی ثابت ہوتی ہے کیونکہ جبکہ میں ایک ایسا ظالم اور ۲۵ شریر آدمی ہوں کہ ایک طرف تو عرصہ پچھتیس سال سے خدا تعالیٰ پر جھوٹ بول رہا ہوں اور رات کو اپنی طرف سے دو چار باتیں بناتا ہوں اور صبح کہتا ہوں کہ خدا کا یہ الہام ہے اور پھر دوسری طرف خدا تعالیٰ کی مخلوق پر یہ ظلم کرتا ہوں کہ ہزار ہا روپیہ اُن کا بد دیانتی سے کھا لیا ہے۔ عہد شکنی کرتا ہوں ۔ جھوٹ بولتا ہوں اور اپنی نفس پرستی کے لئے اُن کا نقصان کر رہا ہوں اور تمام دنیا کے عیب