حقیقةُ الوحی — Page 183
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۸۳ حقيقة الوحي غرض یہ امر سوچنے کے لائق ہے کہ صرف دو پیشگوئیوں پر اُن کا اتنا ماتم اور سیاپا ہے مگر اس جگہ ہزار ہا پیشگوئیاں پوری ہو گئی ہیں اور کئی لاکھ انسان ان کے گواہ ہیں۔ اگر ان کو خدا کا خوف ہے تو کیوں اُن سے فائدہ نہیں اُٹھاتے۔ اس طرح تو یہودی بھی اب تک لکھتے ہیں کہ اکثر پیشگوئیاں حضرت عیسی علیہ السلام کی پوری نہیں ہوئیں جیسا کہ باراہ حواریوں کے بارہ تختوں کی پیشگوئی اور اُسی زمانہ میں اُن کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی وغیرہ جی خلاصہ کلام یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حجت تمام دنیا پر پوری ہو چکی ہے اور آپ کے انوار سورج سے زیادہ چمک رہے ہیں پھر انکار کے ساتھ نیک نیتی کیوں کر جمع ہوسکتی ہے اور جس شخص سے یہ بد عملی ظہور میں آئے کہ ایک کھلی کھلی سچائی کو رد کیا اس کی نسبت ہم کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ وہ نیک اعمال بجالاتا ہے۔ تیرہ سو برس سے یہ منادی ہو رہی ہے اور ہزارہا اہل کرامات و خوارق اپنے اپنے زمانہ میں حجت پوری کر گئے ہیں۔ پس کیا اب تک حجت پوری نہیں ہوئی۔ آخر منکر کسی حد تک معذور ہونے کے لائق ہوتا ہے نہ کہ ہزار ہا معجزات اور خوارق اور خدا کے نشان دیکھ کر اور تعلیم کو عمدہ پا کر اور خالص تو حید اسلام میں دیکھ کر پھر کہتا جائے کہ ابھی میری تسلی نہیں ہوئی حضرت موسیٰ کی توریت میں یہ پیشگوئی تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو ملک شام میں جہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں پہنچائیں گے مگر یہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی حضرت موسیٰ بھی راہ میں فوت ہوئے اور بنی اسرائیل بھی راہ میں ہی مر گئے صرف اولا د اُن کی وہاں گئی ۔ ایسا ہی حضرت عیسی کی پیشگوئی کہ بارہ تخت اُن کے حواریوں کو ملیں گے وہ پیشگوئی بھی غلط نکلی ۔ اب موسیٰ اور عیسی دونوں کی نبوت سے دستبردار ہو جاؤ ۔ سید عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں قد يوعد ولا يوفي يعنی کبھی وعدہ دیا جاتا ہے اور اُس کا ایفا نہیں ہوتا۔ پھر وعید کی شرطی پیشگوئیوں پر اس قدرشور مچانا کس قدر بے علمی پر دلالت کرتا ہے۔ منہ افسوس عبد الحلیم خان ایک اور کھلی کھلی ضلالت میں پھنسا ہوا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اسلام کے مفہوم میں یہ امر داخل نہیں ہے کہ کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاوے حالانکہ تمام مسلمانوں کے اتفاق سے اسلام تمام نہیں ہوتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لایا جائے۔ اسی وجہ سے قرآن شریف فرماتا ہے کہ اہل یورپ کو کیونکر ہم بے خبر کہ سکتے ہیں جنہوں نے قرآن شریف کے ترجمے کر کے شائع کئے اور آپ تفسیریں لکھیں اور حدیث کی بڑی بڑی کتابوں کے ترجمے کئے اور لغت عرب کی بڑی بڑی کتابیں تالیف کیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جس قد ر ا سلام کے کتب خانے یورپ میں موجود ہیں اس قدر مسلمانوں کے ہاتھ میں وہ کتابیں موجود نہیں ۔ منہ