حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 184

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۸۴ حقيقة الوحي بالآخر ہم اس خاتمہ میں چندا مور ضرور یہ بیان کر کے اس رسالہ کو ختم کرتے ہیں۔ از ان جملہ ایک یہ کہ ڈاکٹر عبد العلیم خان اپنے رسالہ مسیح الدجال وغیرہ میں میرے پر یہ الزام لگاتا ہے کہ گویا میں نے اپنی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ جو شخص میرے پر ایمان نہیں لائے گا گو وہ میرے نام سے بھی بے خبر ہو گا اور گو وہ ایسے ملک میں ہو گا جہاں تک میری دعوت نہیں پہنچی تب بھی وہ کافر ہو جائے گا اور دوزخ میں پڑے گا۔ یہ ڈاکٹر مذکور کا سراسر افترا ہے میں نے کسی کتاب یا کسی اشتہار میں ایسا نہیں لکھا۔ اُس پر فرض ہے کہ وہ ایسی کوئی میری کتاب پیش کرے جس میں یہ لکھا ہے۔ یادر ہے کہ اُس نے محض چالا کی سے جیسا کہ اُس کی عادت ہے یہ افترا میرے پر کیا ہے۔ یہ تو ایسا امر ہے کہ بداہت کوئی عقل اس کو قبول نہیں کر سکتی جو شخص بکلی نام سے بھی بے خبر ہے اُس پر مواخذہ کیونکر ہو سکتا ہے۔ ہاں میں یہ کہتا ہوں کہ چونکہ میں مسیح موعود ہوں اور خدا نے عام طور پر میرے لئے آسمان سے نشان ظاہر کئے ہیں۔ پس جس شخص پر میرے مسیح موعود ہونے کے بارہ میں خدا کے نزدیک اتمام حجت ہو چکا ہے اور میرے دعوے پر وہ اطلاع پا چکا ہے وہ قابل مواخذہ ہوگا کیونکہ خدا کے فرستادوں سے دانستہ منہ پھیرنا ایسا امر نہیں ہے کہ اُس پر کوئی گرفت نہ ہو۔ اس گناہ کا داد خواہ میں نہیں ہوں بلکہ ایک ہی ہے جس کی تائید کے لئے میں بھیجا گیا یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ میرا نہیں بلکہ اس کا نافرمان ہے جس نے میرے آنے کی پیشگوئی کی۔ ایسا ہی عقیدہ میرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بارہ میں بھی یہی ہے کہ بقیه حاشیه : ہر ایک اُمت سے بذریعہ اُن کے نبی کے یہ عہد لیا گیا تھا کہ جب حضرت خاتم الانبیاء پیدا ہوں تو اُن پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا اور پھر اس پر ایک اور دلیل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعوت اسلام کے خط 19 اس وقت کے عیسائی بادشاہوں کی طرف لکھے تھے یعنی قیصر اور مقوقس اور حبش کے بادشاہ کی طرف اس میں اسلم تسلیم کا لفظ تھا یعنی اسلام لا ۔ اس سے تو سلامت رہے گا۔ حالانکہ بعض اُن عیسائی بادشاہوں میں سے موحد تھے۔ تثلیث کے قائل نہ تھے اور یہ ثابت شدہ امر ہے اور یہودی بھی تثلیث کے قائل نہ تھے پھر ان کو اسلام کی دعوت کیا معنے رکھتی تھی ۔ وہ تو پہلے ہی اسلام میں داخل تھے۔ منہ