حقیقةُ الوحی — Page 180
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۸۰ حقيقة الوحي اور آریہ سماج والے اپنے پر میشر کے وجود پر کوئی دلیل نہیں لائے کیونکہ اُن کے نزدیک وہ خالق نہیں تا مخلوق پر نظر کر کے خالق کی شناخت ہو اور اُن کے مذہب کی رو سے خدا تعالیٰ معجزات نہیں دکھلاتا اور نہ وید کے زمانہ میں دکھلائے تا معجزوں کے ذریعہ سے پر میشر کا ثبوت ۱۷۵ ملے اور اُن کے پاس اس بات پر کوئی دلیل نہیں کہ وہ صفات جو پر میشر کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں فی الحقیقت اس میں موجود ہیں جیسے علم غیب اور سننا اور بولنا اور قدرت رکھنا اور دیالو ہونا۔ پس اُن کا پر میشر صرف فرضی پر میشر ہے۔ یہی عیسائیوں کا حال ہے ۔ اُن کے خدا کے الہام پر بھی مہر لگ گئی ہے۔ پس ایسے پر میشر یا خدا پر ایمان لانے سے تسلی کیونکر ہو اور جو شخص اپنے خدا پر کامل یقین نہیں رکھتا وہ کیونکر کامل طور پر خدا کی محبت کر سکے اور کیونکر شرک سے خالی ہو سکے خدا نے اپنے رسول نبی کریم کی اتمام حجت میں کسر نہیں رکھی ۔ وہ ایک آفتاب کی طرح آیا اور ہر ایک پہلو سے اپنی روشنی ظاہر کی۔ پس جو شخص اس آفتاب حقیقی سے منہ پھیرتا ہے اُس کی خیر نہیں ہم اُس کو نیک نیت نہیں کہہ سکتے ۔ کیا جو شخص مجزوم ہے اور جذام نے اُس کے اعضاء کھالئے ہیں وہ کہہ سکتا ہے کہ میں مجزوم نہیں یا مجھے علاج کی حاجت نہیں اور اگر کہے تو کیا ہم اس کو نیک نیت کہہ سکتے ہیں۔ ماسواء اس کے اگر فرض کے طور پر کوئی ایسا شخص دنیا میں ہو کہ وہ باوجود پوری نیک نیتی اور ایسی پوری پوری کوشش کے کہ جیسا کہ وہ دنیا کے حصول کے لئے کرتا ہے اسلام کی سچائی تک پہنچ نہیں سکا تو اس کا حساب خدا کے پاس ہے مگر ہم نے اپنی تمام عمر میں ایسا کوئی آدمی دیکھا نہیں ہے اس لئے ہم اس بات کو قطعاً محال جانتے ہیں کہ کوئی شخص عقل اور انصاف کی رو سے کسی دوسرے مذہب کو اسلام پر ترجیح دے سکے ۔ نادان اور جاہل لوگ نفس امارہ کی تعلیم سے ایک بات سیکھ لیتے ہیں کہ صرف تو حید کافی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی ضرورت نہیں مگر یادر ہے کہ توحید کی ماں نبی ہی ہوتا ہے جس سے تو حید پیدا ہوتی ہے اور خدا کے وجود کا اُسی سے پتہ لگتا ہے اور خدا تعالیٰ سے زیادہ اسلام ایک ایسا فطرت کے موافق مذہب ہے کہ اس کی سچائی ایک جاہل اور نا خواندہ ہندو کی بھی دومنٹ میں سمجھ میں آسکتی ہے کیونکہ جو کچھ اس کے مقابل پر دوسری قوموں نے قبول کیا ہوا ہے وہ تمام عقائد قابل شرم اور ایک غمگین کے ہنسانے کا ذریعہ ہیں ۔ منہ