حقیقةُ الوحی — Page 176
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۷۶ حقيقة الوحي کیونکہ جن منازل تک باعث پیروی نور رسالت پیروی کرنے والے پہنچ سکتے ہیں محض اندھے نہیں پہنچ سکتے اور یہ خدا کا فضل ہے جس پر چاہے کرے۔ اور جبکہ خدا تعالیٰ نے اسم اللہ کو اپنے تمام صفات اور افعال کا موصوف ٹھیرایا ہے تو اللہ کے لفظ کے معنے کرنے کے وقت کیوں اس ضروری امر کو ملحوظ نہ رکھا جاوے۔ ہمیں اس سے کچھ غرض نہیں کہ قرآن شریف سے پہلے عرب کے لوگ اللہ کے لفظ کو کن معنوں پر استعمال کرتے تھے مگر ہمیں اس بات کی پابندی کرنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اول سے آخر تک اللہ کے لفظ کو انہیں معنوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ وہ رسولوں اور نبیوں اور کتابوں کا بھیجنے والا اور زمین اور آسمان کا پیدا کرنے والا اور فلاں فلاں صفت سے متصف اور واحد لاشریک ہے۔ ہاں جن لوگوں کو خدا تعالیٰ کا کلام نہیں پہنچا اور وہ بالکل بے خبر ہیں اُن سے اُن کے علم اور عقل اور فہم کے موافق مواخذہ ہوگا لیکن یہ ہرگز ممکن نہیں کہ وہ ان مدارج اور مراتب کو پالیں جو رسول کریم کی پیروی سے لوگوں کو ملیں گے۔ کیونکہ جن منازل تک باعث پیروی نور رسالت پیروی کرنے والے پہنچ سکتے ہیں محض اندھے نہیں پہنچ سکتے اور یہ خدا کا فضل ہے جس پر چاہے کرے ہیں پھر اس ظلم کو تو دیکھو کہ باوجود اس کے کہ قرآن شریف کی صدہا آیتیں بلند آواز سے کہہ رہی ہیں کہ نری تو حید موجب نجات نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے ساتھ رسول کریم پر ایمان لانا شرط ہے پھر بھی میاں عبد الحکیم خان ان آیات کی کچھ بھی پروا نہیں کرتے اور یہودیوں کی طرح ایک دو آیت جو مجمل طور پر واقع ہیں اُن کے اُلٹے معنے کر کے بار بار پیش کرتے ہیں۔ ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر ان آیات کے یہی معنے ہیں جو عبد الحلیم پیش کرتا ہے تب اسلام دنیا سے رخصت ہو جاتا (۱۷۲) ہے۔ اور جو کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احکام مثل نماز روزہ وغیرہ کے سکھلائے ہیں وہ سب کچھ بیہودہ اور لغو اور عبث ٹھیرتا ہے کیونکہ اگر یہی بات ہے کہ ہر ایک شخص اپنی خیالی توحید سے حمد اگر اس مجمل آیت کے یہ معنی کئے جائیں تو کیا وجہ کہ اس دوسری مجمل آیت یعنی إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا لے کی رو سے اعتقاد یہ رکھا جائے کہ شرک بھی بخشا جائے گا۔ منہ الزمر : ۵۴