حقیقةُ الوحی — Page 175
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۷۵ حقيقة الوحي کلام اُن سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور اُن کے معنی کھلے کھلے ہوتے ہیں اور اُن کے نہ ماننے سے فساد لازم آتا ہے مثلاً اسی جگہ دیکھ لو کہ جو شخص محض خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور اُس کے رسولوں پر ایمان نہیں لاتا اُس کو خدا تعالیٰ کی صفات سے منکر ہونا پڑتا ہے مثلاً ہمارے زمانہ میں برہمو جو ایک نیا فرقہ ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں مگر نبیوں کو نہیں مانتے وہ خدا تعالیٰ کے کلام سے منکر ہیں اور ظاہر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ سنتا ہے تو بولتا بھی ہے۔ پس اگر اس کا بولنا ثابت نہیں تو سننا بھی ثابت نہیں۔ اس طرح پر ایسے لوگ صفات باری سے انکار کر کے دہریوں کے رنگ میں ہو جاتے ہیں اور صفات باری جیسے ازلی ہیں ویسے ابدی بھی ہیں اور ان کو مشاہدہ کے طور پر دکھلانے والے محض انبیاء علیہم السلام ہیں اور نفی صفات باری نفی وجود باری کو مستلزم ہے۔ اس تحقیق سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے لئے انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانا کس قدر ضروری ہے کہ بغیر اُن کے خدا پر ایمان لا نا ناقص اور نا تمام رہ جاتا ہے اور نیز آیات محکمات کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ اُن کی شہادت نہ محض کثرت آیات سے بلکہ عملی طور پر بھی ملتی ہے یعنی خدا کے نبیوں کی متواتر شہادت اُن کے بارہ میں پائی جاتی ہے جیسا کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے کلام قرآن شریف اور دوسرے نبیوں کی کتابوں کو دیکھے گا ۔ اُس کو معلوم ہوگا کہ نبیوں کی کتابوں میں جس طرح خدا پر ایمان لانے کی تاکید ہے ایسا ہے اُس کے رسولوں پر بھی ایمان لانے کی تاکید ہے اور متشابہات کی یہ علامت ہے کہ اُن کے ایسے معنی ماننے سے جو مخالف محکمات کے ہیں فساد لازم آتا ہے اور نیز دوسری آیات سے جو کثرت کے ساتھ ہیں مخالف پڑتی ہیں خدا تعالیٰ کے کلام میں تناقض ممکن نہیں اس ۱۷۱ لئے جو قلیل ہے بہر حال کثیر کے تابع کرنا پڑتا ہے اور میں لکھ چکا ہوں کہ اللہ کے لفظ پر غور کرنا اس وسوسہ کو مٹا دیتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے کلام میں اس کے اپنے بیان میں اللہ کے لفظ کی یہ تصریح ہے کہ اللہ وہ خدا ہے جس نے کتابیں بھیجی ہیں اور نبی بھیجے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا کہ وہ ان مدارج اور مراتب کو پالیں جو رسول کریم کی پیروی سے لوگوں کو ملیں گے