حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xx of 830

حقیقةُ الوحی — Page xx

چنانچہ وحی و الہام اور رؤیا ئے صادقہ کی حقیقت کے متعلّق حضور نے چار ابواب قائم فرمائے ہیں:۔باب اوّل اُن لوگوں کے بیان میں جن کو بعض سچی خوابیں آتی ہیں یا بعض سچّے الہام ہوتے ہیں لیکن اُن کو خدا تعالیٰ سے کچھ بھی تعلق نہیں اور اس روشنی سے اُن کو ایک ذرّہ حصّہ نہیں ملتا جو اہل تعلق پاتے ہیں اور نفسانی قالب ان کا تعلق نور سے ہزار ہا کوس دُور ہوتا ہے۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷) باب دوم اُن لوگوں کے بیان میں جن کو بعض اوقات سچی خوابیں آتی ہیں یا سچے الہام ہوتے ہیں اور اُن کو خدا تعالیٰ سے کچھ تعلّق بھی ہے لیکن کچھ بڑا تعلّق نہیں اور نفسانی قالب اُن کا شعلۂ نُور سے جل کر نیست و نابود نہیں ہوتا اگرچہ کسی قدر اُس کے نزدیک آ جاتا ہے۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۳) باب سوم اُن لوگوں کے بیان میں جو خدا تعالیٰ سے اکمل اور اصفٰی طور پر وحی پاتے ہیں اور کامل طور پر شرفِ مکالمہ اور مخاطبہ اُن کو حاصل ہے اور خوابیں بھی ان کو فلق الصبح کی طرح سچی آتی ہیں اور خدا تعالیٰ سے اکمل اور اَتم طور پر محبت کا تعلّق رکھتے ہیں۔اور محبتِ الٰہی کی آگ میں داخل ہو جاتے ہیں اور نفسانی قالب اُن کا شعلۂ نور سے جل کر بالکل خاک ہو جاتا ہے۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۶) اور باب چہارم میں یہ بیان فرمایا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آپ کو تیسرے طبقہ میں شامل فرمایا ہے جس کے ثبوت میں حضور نے اپنے مجموعۂ الہامات پیش فرما کر اُن کے پورا ہونے کی واقعاتی شہادات پیش فرمائی ہیں اور قبولیّت دُعا کے بیسیوں نشانات سینکڑوں پیشگوئیوں کا پورا ہونا اور متعدّد انفسی و آفاقی نشانات کو خدا تعالیٰ کی ہستی، اسلام کی حقّانیت اور اپنی صداقت کے طور پر پیش فرمایا ہے۔سب سے اہم نشان جس کے بیسیوں مظاہر اس کتاب میں درج ہیں حضور کا اپنے وقت کے مسلمان علماء و سجادہ نشینوں آریوں اور عیسائیوں کے مقابل پر مباہلہ ہے جن کی تفصیل کو پڑھ کر ایک دہریہ بھی کہہ اٹھے گا کہ اگر یہ واقعات صحیح ہیں تو پھر خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق کوئی شک نہیں کیا جا سکتا اور اسلام اور مسیح موعود کی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔انجام آتھم میں حضور نے ۶۴ سے زائد علماء اور گدی نشینوں کو مباہلہ کے لئے بلایا تھا حقیقۃ الوحی کی تصنیف تک اُن میں سے صرف بیس زندہ تھے اور وہ بھی طرح طرح کے ابتلاؤں اور خدائی غضب کا نشانہ بن کر حضور کے الہام انّی مھین من اراد اھانتک کی تصدیق کر رہے تھے۔اِن کے علاوہ لیکھرام اور متعدد آریوں، جان الیگزنڈر ڈوئی اور عبداﷲ آتھم کی اموات خدا تعالیٰ کی قہری تجلّی کے نشانات تھے جن کی