حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xix of 830

حقیقةُ الوحی — Page xix

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمـٰنِ الرَّحِيمِ نَحمدہٗ و نُصلّی علٰی رسولہِ الکریم3 تعارف رُوحانی خزائن کی بائیسویں جلد حضرت سلطان القلم مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی معرکۃ الآراء کتاب ’’حقیقۃ الوحی‘‘ پر مشتمل ہے۔یہ کتاب دہریت اور مادیّت کے پیدا کر دہ زہر وں کے لئے ایک تریاق کا حکم رکھتی ہے۔اور اسلام کا زندہ اور سچا مذہب ہونا ثابت کرتی ہے۔اِس کتاب میں حضور نے جہاں وحی، الہام اور سچی رؤیا کی حقیقت بیان فرمائی ہے وہاں اِن امور میں خود صاحبِ تجربہ ہونے کے لحاظ سے ایسے سینکڑوں رؤیا کشوف اور الہامات پیش فرمائے ہیں جو حضور کی زندگی میں ہی بظاہر مخالف حالات کے باوجود پورے ہو کر منجانب اﷲ ثابت ہوئے۔اس لحاظ سے اس کتاب کی اہمیّت بہت بڑھ جاتی ہے۔حضور فرماتے ہیں:۔’’یاد رہے کہ یہ کتاب کہ جو جامع جمیع دلائل و حقائق ہے اس کا اثر صرف اس حد تک ہی محدود نہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے اس عاجز کا مسیح موعود ہونا اس میں دلائلِ بیّنہ سے ثابت کیا گیا ہے بلکہ اس کا یہ بھی اثر ہے کہ اس میں اسلام کا زندہ اور سچا مذہب ہونا ثابت کر دیا ہے۔‘‘ (صفحہ ۲جلد ھٰذا) اِس کتاب کا بنیادی موضوع وحی و الہام ہے۔حضور فرماتے ہیں:۔’’واضح ہو کہ مجھے اس رسالہ کے لکھنے کے لئے یہ ضرورت پیش آئی ہے کہ اس زمانہ میں جس طرح اور صد ہا طرح کے فتنے اور بدعتیں پیدا ہو گئی ہیں اِسی طرح یہ بھی ایک بزرگ فتنہ پیدا ہو گیا ہے کہ اکثر لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ کِس درجہ اور کس حالت میں کوئی خواب یا الہام قابلِ اعتبار ہو سکتا ہے اور کِن حالتوں میں یہ اندیشہ ہے کہ وہ شیطان کا کلام ہو نہ خدا کا۔اور حدیث النفس ہو نہ حدیث الربّ۔‘‘ (صفحہ ۳جلد ھٰذا) ’’اس لئے مَیں نے مناسب سمجھا کہ حق اور باطل میں فرق کرنے کے لئے یہ رسالہ لکھوں۔‘‘ (صفحہ ۴جلد ھٰذا)