حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 166

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۶۶ حقيقة الوحي (۱۷۲) مینڈ کیں برسیں، خون برسا اور عام قحط پڑا ۔ حالانکہ ملک مصر کے دور دور کے باشندوں کو حضرت موسیٰ کی خبر بھی نہ تھی اور نہ اُن کا اس میں کچھ گناہ تھا اور نہ صرف یہ بلکہ تمام مصریوں کے پلوٹھے بچے مارے گئے اور فرعون ایک مدت تک ان آفات سے محفوظ تھا اور جو محض بے خبر تھے وہ پہلے مارے گئے ۔ اور حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں جن لوگوں نے حضرت عیسی کو صلیب سے قتل کرنا چاہا تھا اُن کا تو بال بریکا بھی نہ ہوا اور وہ آرام سے زندگی بسر کرتے رہے لیکن چالیس برس بعد جب وہ صدی گزرنے پر تھی تو طیطوس رومی کے ہاتھ سے ہزاروں یہودی قتل کئے گئے اور طاعون بھی پڑی۔ اور قرآن شریف سے ثابت ہے کہ یہ عذاب محض حضرت عیسی کی وجہ سے تھا۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں سات برس کا قحط پڑا اور اکثر اس قحط میں غریب ہی مارے گئے اور بڑے بڑے سردار فتنہ انگیز جو دکھ دینے والے تھے مدت تک عذاب سے بچے رہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جب کوئی خدا کی طرف سے آتا ہے اور اُس کی تکذیب کی جاتی ہے تو طرح طرح کی آفتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں جن میں اکثر ایسے لوگ پکڑے جاتے ہیں جن کا اس تکذیب سے کچھ تعلق نہیں پھر رفتہ رفتہ ائمتہ الکفر پکڑے جاتے ہیں اور سب سے آخر بڑے شریروں کا وقت آتا ہے اسی کی طرف اللہ تعالی اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے اَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا یعنی ہم آہستہ آہستہ زمین کی طرف آتے جاتے ہیں۔ اس میرے بیان میں اُن بعض نادانوں کے اعتراضات کا جواب آ گیا ہے جو کہتے ہیں کہ تکفیر تو مولویوں نے کی تھی اور غریب آدمی طاعون سے مارے گئے ۔ اور کانگڑہ اور بھا گسو کے پہاڑ کے صدہا آدمی زلزلہ سے ہلاک ہو گئے ۔ اُن کا کیا قصور تھا۔ اُنہوں نے کونسی تکذیب کی تھی ۔ سویا در ہے کہ جب خدا کے کسی مرسل کی تکذیب کی جاتی ہے خواہ وہ تکذیب کوئی خاص قوم کرے یا کسی خاص حصہ زمین میں ہو مگر خدا تعالیٰ کی غیرت عام عذاب نازل کرتی ہے اور آسمان سے عام طور پر بلائیں نازل ہوتی ہیں اور اکثر ایسا ہوتا ہے الرعد: ۴۲