حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 167

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۶۷ حقيقة الوحي کہ اصل شریر پیچھے سے پکڑے جاتے ہیں جو اصل مبدء فساد ہوتے ہیں جیسا کہ اُن قہری ۱۶۳ نشانوں سے جو حضرت موسیٰ نے فرعون کے سامنے دکھلائے ۔ فرعون کا کچھ نقصان نہ ہوا صرف غریب مارے گئے لیکن آخر کا ر خدا نے فرعون کو مع اُس کے لشکر کے غرق کیا۔ یہ سنت اللہ ہے جس سے کوئی واقف کارا نکار نہیں کرسکتا۔ سوال(۶) حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ اُن مومنوں کے جو آپ کی تکفیر کر کے کافر بن جائیں صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کا فرنہیں ہو سکتا لیکن عبد الحکیم خان کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اُس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے یعنی پہلے آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کا فرنہیں ہوتا اور اب آپ لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہو جاتا ہے۔ الجواب: یہ عجیب بات ہے کہ آپ کا فر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھیراتے ہیں حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے مگر اللہ تعالی فرماتا ہے کہ خدا پر افترا کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے جیسا کہ فرماتا ہے فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالیتے ہے یعنی بڑے کا فرد وہی ہیں ایک خدا پر افترا کرنے والا ۔ دوسرا خدا کی کلام کی تکذیب کرنے والا ۔ پس جبکہ میں نے ایک مکذب کے نزدیک خدا پر افترا کیا ہے۔ اس صورت میں نہ میں صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہوا اور اگر میں مفتری نہیں تو بلا شبہ وہ کفر اُس پر پڑے گا جیسا کہ ☆ ظالم سے مراد اس جگہ کا فر ہے۔ اس پر قرینہ یہ ہے کہ مفتری کے مقابل پر مکذب کتاب اللہ کو ظالم ٹھہرایا ہے اور بلاشبہ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے کلام کی تکذیب کرتا ہے کافر ہے۔ سوجو شخص مجھے نہیں مانتاوہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کا فرٹھہراتا ہے۔ اس لئے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کا فر بنتا ہے۔ منہ الاعراف: ۳۸