حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 164

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۶۴ حقيقة الوحي ۱۲۰ میں نے طاعون کی خبر دی اور شدید زلزلوں سے اطلاع دی ہے وہ اس ملک کی حالت کے لحاظ سے درحقیقت عظیم الشان پیشگوئیاں ہیں کیونکہ اگر اس ملک کے صد ہاسال کی تاریخ دیکھی جائے تب بھی ثابت نہیں ہوتا کہ بھی اس ملک میں طاعون پڑی ہے چہ جائیکہ ایسی طاعون جس نے تھوڑے ہی عرصہ میں لاکھوں انسانوں کو ہلاک کر دیا چنانچہ طاعون کی نسبت میری پیشگوئی کے الفاظ یہ ہیں کہ ملک کا کوئی حصہ طاعون سے خالی نہیں رہے گا اور سخت تباہی آئے گی اور وہ نتباہی زمانہ دراز تک رہے گی۔ اب کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ جیسا کہ اب پیشگوئی کے مطابق یہ سخت تباہیاں طاعون سے ظہور میں آئیں پہلے اس ملک میں کبھی ظہور میں آیا تھا۔ ہر گز نہیں۔ رہا زلزلہ وہ بھی میری طرف سے کوئی معمولی پیشگوئی نہیں تھی بلکہ پیشگوئی میں یہ الفاظ تھے کہ ایک حصہ ملک کا اس سے تباہ ہو جائے گا جیسا کہ ظاہر ہے کہ وہ تباہی جو اس زلزلہ سے کانگڑہ اور بھا گسو خاص جوالا مکھی پر آئی۔ دو ہزار برس تک اس کی نظیر نہیں ملتی کہ کبھی زلزلہ سے ایسا نقصان ہوا چنانچہ انگریز محققوں نے بھی یہی گواہی دی ہے۔ پس اس صورت میں میرے پر اعتراض کرنا محض جلد بازی ہے۔ سوال(۵) جناب عالی نے متفرق طور پر بہت سے اشتہارات میں لکھا ہے کہ مذہب کی خرابی کی وجہ سے دنیا میں عذاب نازل نہیں ہوتا بلکہ شوخی اور شرارت اور مرسلین کے ساتھ استہزا کرنے سے عذاب آتا ہے۔ اب سان فرانسسکو وغیرہ میں جو زلزلے آئے ہیں جناب عالی نے اپنی تصدیق کا اُن کو نشان قرار دیا ہے۔ یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ یہ زلزلے آپ کی تکذیب کی وجہ سے آئے ہیں۔ الجواب: میں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ تمام زلزلے جو سان فرانسسکو وغیرہ مقامات میں آئے ہیں یہ محض میری تکذیب کی وجہ سے آئے ہیں کسی اور امر کا اس میں دخل نہیں۔ ہاں میں کہتا ہوں کہ میری تکذیب ان زلزلوں کے ظہور کا باعث ہوئی ہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے تمام نبی اس بات پر متفق ہیں کہ عادت اللہ ہمیشہ سے اس طرح پر جاری ہے کہ جب دنیا ہر ایک قسم کے گناہ کرتی ہے اور بہت سے گناہان کے جمع ہو جاتے ہیں تب اس زمانہ میں خدا اپنی طرف سے کسی کو مبعوث فرماتا ہے