حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 163

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۶۳ حقيقة الوحي وہ ایک دیوار ریگ ہے وہ آج بھی تباہ ہوا اور کل بھی ۔ ایمان در حقیقت وہی ایمان ہے جو خدا ۱۵۹ کے رسول کو شناخت کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ اس ایمان کو زوال نہیں ہوتا اور اس کا انجام بدنہیں ہوتا۔ ہاں جو شخص سرسری طور پر رسول کا تابع ہو گیا اور اُس کو شناخت نہیں کیا اور اُس کے انوار سے مطلع نہیں ہوا اُس کا ایمان بھی کچھ چیز نہیں اور آخر ضرور وہ مرتد ہوگا جیسا کہ مسیلمہ کذاب اور عبداللہ ابن ابی سرح اور عبیدہ اللہ بن جحش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور یہودا اسکر یوطی اور پانسو اور عیسائی مرتد حضرت عیسی کے زمانہ میں اور جموں والا چراغ دین اور عبد الحکیم خان ہمارے اس زمانہ میں مرتد ہوئے۔ سوال (۴) پہلی کتابوں ازالہ اوہام وغیرہ میں لکھا ہے کہ یہ بھی کچھ کوئی پیشگوئیاں ہیں کہ زلزلے آئیں گے ، مری پڑے گی ،لڑائیاں ہوں گی ، قحط پڑیں گے لیکن اب کئی تحریروں میں دیکھا گیا ہے کہ انہیں پیشگوئیوں کو جناب والا نے عظیم الشان پیشگوئیاں قرار دیا ہے۔ الجواب: یہ بات صحیح نہیں ہے کہ میں نے انہیں پیشگوئیوں کو عظیم الشان قرار دیا ہے۔ ہر ایک چیز کی عظمت یا عدم عظمت اس کی مقدار اور کیفیت سے اور نیز اُس کے حالات خاصہ یا معمولی حالات سے ظاہر ہوتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جس ملک میں طاعون اور زلزلوں کی خبر دی تھی وہ ملک ایسا ہے کہ اکثر اس میں طاعون کا دور ہ رہتا ہے اور کشمیر کی طرح اس میں زلزلے بھی آتے رہتے ہیں اور قحط بھی پڑتے ہیں اور لڑائیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے اور حضرت مسیح کی پیشگوئی میں نہ کسی خارق عادت زلزلہ کا ذکر ہے اور نہ کسی خارق عادت مری یعنی طاعون کا ۔ اس صورت میں کوئی عقلمند ایسی پیشگوئیوں کو عظمت اور وقعت کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا مگر جس ملک کے لئے حاشیہ : ہاں ممکن ہے کہ اصل پیشگوئیوں میں تحریف ہوگئی ہو جبکہ ایک انجیل کی بیسیوں انجیلیں بن گئی ہیں تو کسی عبارت میں تحریف ہونا کون سا ایسا امر ہے جو بعید از عقل ہو سکتا ہے مگر ہمارا موجودہ انجیلوں پر اعتراض ہے اور خدا نے ان انجیلوں کو محرف مبدل قرار دے کر ہمیں ان اعتر انوں کا موقعہ دیا ہے ۔ منہ یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح کی پیشگوئیوں میں جوانجیلوں میں پائی جاتی ہیں صرف معمولی اور نرم لفظ ہیں کسی شدید اور ہیبت ناک زلزلہ یا ہیبت ناک طاعون کا ان میں ذکر نہیں ہے مگر میری پیشگوئیوں میں ان دونوں واقعات کی نسبت ایسے لفظ ہیں جو ان کو خارق عادت قرار دیتے ہیں ۔ منہ