حقیقةُ الوحی — Page 156
روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الوح سے زیادہ اُن کو نازل نہیں کیا کرتے ۔ پس یہ حکمت الہیہ کے برخلاف ہے کہ ایک نبی کو امت کی اصلاح کے لئے وہ علوم دیئے جائیں جن علوم سے وہ اُمت مناسبت ہی نہیں رکھتی بلکہ حیوانات میں بھی خدا تعالیٰ کا یہی قانون قدرت پایا جاتا ہے۔ مثلاً گھوڑے کو اس غرض کیلئے خدا نے پیدا کیا ہے کہ قطع مسافت میں عمدہ کام دے اور ہر ایک میدان میں دوڑنے سے اپنے سوار کا حامی اور مددگار ہو اس لئے ایک بکری ان صفات میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی کیونکہ وہ اس غرض کے لئے پیدا نہیں کی گئی۔ ایسا ہی خدا نے پانی کو پیاس بجھانے کے لئے پیدا کیا ہے اس لئے آگ اُس کے قائم مقام نہیں ہوسکتی۔ انسانی سرشت بہت سی شاخوں پر مشتمل ہے اور کئی مختلف قو تیں خدا نے اُس میں رکھی ہیں۔ لیکن انجیل نے صرف ایک ہی قوت عفو اور درگذر پر زور دیا ہے گویا انسانی درخت کی صد ہا شاخوں میں سے صرف ایک شاخ انجیل کے ہاتھ میں ہے۔ پس اس سے حضرت عیسیٰ کی معرفت کی حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ وہ کہاں تک ہے لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت انسانی فطرت کے انتہا تک پہنچی ہوئی ہے اس لئے قرآن شریف کامل نازل ہوا۔ اور یہ کچھ بُرا ماننے کی بات نہیں اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْض " یعنی بعض نبیوں کو ہم نے بعض پر فضیلت دی ہے۔ اور ہمیں حکم ہے کہ تمام احکام میں اخلاق میں عبادات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں پس اگر ہماری فطرت کو وہ قوتیں نہ دی جاتیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات کو خلقی طور پر حاصل کر سکتیں تو یہ حکم ہمیں ہرگز نہ ہوتا کہ اس بزرگ نبی کی پیروی کرو کیونکہ خدا تعالیٰ فوق الطاقت کوئی تکلیف نہیں دیتا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے لَا يُكلف اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا اور چونکہ وہ جانتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جامع کمالات تمام انبیاء کے ہیں اس لئے اُس نے ہماری پنج وقتہ نماز میں ہمیں یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے یعنی اے ہمارے خدا ہم سے پہلے جس قدر نبی اور رسول اور صدیق اور شہید گذر چکے ہیں اُن سب کے کمالات ہم میں جمع کر ۔ پس اس امت مرحومہ کی فطرت عالیہ کا اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس کو حکم ہوا ہے کہ تمام گذشتہ متفرق کمالات کو اپنے اندر جمع کرو۔ یہ تو عام طور پر حکم ہے اور خواص کے مدارج خاصہ البقرة : ۲۵۴ البقرة : ۲۸۷ الفاتحة : ٧،٦