حقیقةُ الوحی — Page 157
روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الوح اسی سے معلوم ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس اُمت کے باکمال صوفی اس پوشیدہ حقیقت تک پہنچ گئے ہیں کہ انسانی فطرتوں کے کمال کا دائرہ اس اُمت نے پورا کیا ہے۔ بات یہ ہے کہ جس طرح ایک چھوٹا سائم زمین میں بویا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ وہ اپنے کمال کو پہنچ کر ایک بڑا درخت بن (۱۵۳) جاتا ہے۔ اسی طرح انسانی سلسلہ نشو نما پاتا گیا اور انسانی قوتیں اپنے کمال میں بڑھتی گئیں یہاں تک کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں وہ اپنے کمال نام تک پہنچ گئیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ چونکہ میں ایک ایسے نبی کا تابع ہوں جو انسانیت کے تمام کمالات کا جامع تھا اور اس کی شریعت اکمل اور اتم تھی اور تمام دنیا کی اصلاح کے لئے تھی اس لئے مجھے وہ قو تیں عنایت کی گئیں جو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ضروری تھیں تو پھر اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی۔ وهذا تحدیث نعمت الله ولا فخر ۔ جیسا کہ ظاہر ہے کہ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ آتے تو اس کام کو انجام نہ دے سکتے اور اگر قرآن شریف کی جگہ توریت نازل ہوتی تو اس کام کو ہرگز انجام نہ دے سکتی جو قرآن شریف نے دیا۔ انسانی مراتب پردۂ غیب میں ہیں۔ اس بات میں بگڑنا اور منہ بنانا اچھا نہیں۔ کیا جس قادر مطلق نے حضرت عیسی علیہ السلام کو پیدا کیا وہ ایسا ہی ایک اور انسان یا اس سے بہتر پیدا نہیں کر سکتا ہے اگر قرآن شریف کی کسی آیت سے ثابت ہوتا ہے تو وہ آیت پیش کرنی چاہیے۔ سخت مردود وہ شخص ہوگا جو قر آنی آیت سے انکار کرے ورنہ میں اس پاک وحی کے مخالف کیوں کر خلاف واقعہ کہہ سکتا ہوں جو قریبا تیس " برس سے مجھے کو حمد خدائے تعالی کے کاموں کا کوئی انتہانہیں پاسکتا۔ بنی اسرائیل میں حضرت موسی علیہ السلام عظیم الشان نمی گذرے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے توریت دی اور جن کی عظمت اور وجاہت کی وجہ سے بلعم باعور بھی اُن کا مقابلہ کر کے تحت الثریٰ میں ڈالا گیا اور کتے کے ساتھ خدا نے اس کی مشابہت دی وہی موسیٰ ہے جس کو ایک بادیہ نشین شخص کے علوم روحانیہ کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا اور اُن غیبی اسرار کا کچھ پتہ نہ لگا جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے۔ فَوَجَدَا عَبْدًا مِنْ عِبَادِنَا أَتَيْنَهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنَهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا منه الكهف : ٢٢