حقیقةُ الوحی — Page 150
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۵۰ حقيقة الوح ۱۳۶ مثالیں پائی جاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالی ایسا کریم و رحیم ہے اگر کوئی ایک ذرہ بھی نیکی کرے تب بھی اُس کی جزا میں اسلام میں اُس کو داخل کر دیتا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں بھی ہے کہ کسی صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ میں نے کفر کی حالت میں محض خدا تعالیٰ کے خوش کرنے کے لئے بہت کچھ مال مساکین کو دیا تھا۔ کیا اس کا ثواب بھی مجھ کو ہو گا۔ تو آپ نے فرمایا کہ وہی صدقات ہیں جو تجھ کو اسلام کی طرف کھینچ لائے۔ پس اسی طرح جو شخص کسی غیر مذہب میں خدا تعالیٰ کو واحد لا شریک جانتا ہے اور اُس سے محبت کرتا ہے تو خدا تعالی بموجب آیت فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ لا آخر اس کو اسلام میں داخل کر دیتا ہے۔ یہی معاملہ باوانا تک کو پیش آیا۔ جب اُس نے بڑے اخلاص سے بت پرستی کو چھوڑ کر تو حید کو اختیار کیا اور خدا تعالیٰ سے محبت کی تو وہی خدا جس نے آیت ممدوحہ بالا میں فرمایا ہے فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اُس پر ظاہر ہوا اور اپنے الہام سے اسلام کی طرف اُس کو رہبری کی تب وہ مسلمان ہو گیا اور حج بھی کیا۔ اور کتاب بـحـر الـجـواهر میں لکھا ہے کہ ابوالخیر نام ایک یہودی تھا جو پار سا طبع اور راستباز آدمی تھا اور خدا تعالیٰ کو واحد لاشریک جانتا تھا ایک دفعہ وہ بازار میں چلا جاتا تھا تو ایک مسجد سے اُس کو آواز آئی کہ ایک لڑکا قرآن شریف کی یہ آیت پڑھ رہا تھا: الم - أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ لَ یعنی کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ یونہی وہ نجات پا جاویں گےصرف اس کلمہ سے کہ ہم ایمان لائے۔ اور ابھی خدا کی راہ میں اُن کا امتحان نہیں کیا گیا کہ کیا ان میں ایمان لانے والوں کی سی استقامت اور صدق اور وفا بھی موجود ہے یا نہیں؟ اس آیت نے ابوالخیر کے دل پر بڑا اثر کیا اور اُس کے دل کو گداز کر دیا ۔ تب وہ مسجد کی دیوار کے ساتھ کھڑا ہو کر زار زار رو یا۔ رات کو حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی خواب میں آئے اور فرمایا یا ابـا الـخـيـر اعـجـبـنـی ان مثـلک مـع کـمال فضلک ینکر بنبوتی ۔ یعنی اے ابوالخیر مجھے تعجب آیا کہ تیرے جیسا انسان با وجود اپنے کمال البقرة : ٦٣ ٢ العنكبوت: ٣،٢