حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 151

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۵۱ حقيقة الوح فضل اور بزرگی کے میری نبوت سے انکار کرے۔ پس صبح ہوتے ہی ابوالخیر مسلمان ہو گیا اور (۱۳۴۷) اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔ خلاصہ یہ کہ میں اس بات کو بالکل سمجھ نہیں سکتا کہ ایک شخص خدا تعالیٰ پر ایمان لاوے اور اُس کو واحد لاشریک سمجھے اور خدا اُس کو دوزخ سے تو نجات دے مگر نا بینائی سے نجات نہ دے حالانکہ نجات کی جڑہ معرفت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ في الآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلاً - یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا ہے وہ دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا یا اس سے بھی بدتر ۔ یہ بات بالکل سچ ہے کہ جس نے خدا کے رسولوں کو شناخت نہیں کیا اُس نے خدا کو بھی شناخت نہیں کیا۔ خدا کے چہرے کا آئینہ اُس کے رسول ہیں۔ ہر ایک جوخدا کو دیکھتا ہے اسی آئینہ کے ذریعہ سے دیکھتا ہے۔ پس یہ کس قسم کی نجات ہے کہ ایک نص دنیا میں تمام عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکذب اور منکر رہا اور قرآن شریف سے انکاری رہا اور خدا تعالیٰ نے اُس کو آنکھیں نہ بخشیں اور دل نہ دیا اور وہ اندھا ہی رہا اور اندھا ہی مر گیا اور پھر نجات بھی پا گیا۔ یہ عجیب نجات ہے! اور ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ جس شخص پر رحمت کرنا چاہتا ہے پہلے اُس کو آنکھیں بخشتا ہے اور اپنی طرف سے اُس کو علم عطا کرتا ہے۔ صد ہا آدمی ہمارے سلسلہ میں ایسے ہوں گے کہ وہ محض خواب یا الہام کے ذریعہ سے ہماری جماعت میں داخل ہوئے ہیں اور خدا تعالی کی ذات وسیع الرحمت ہے اگر کوئی ایک قدم اس کی طرف آتا ہے تو وہ دو قدم آتا ہے۔ اور جو شخص اُس کی طرف جلدی سے چلتا ہے تو وہ اُس کی طرف دوڑ تا آتا ہے اور نابینا کی آنکھیں کھولتا ہے۔ پھر کیونکر قبول کیا جائے کہ ایک شخص اُس کی ذات پر ایمان لایا اور بچے دل سے اُس کو وحدہ لاشریک سمجھا اور اس سے محبت کی اور اس کے اولیاء میں داخل ہوا۔ پھر خدا نے اُس کو نا بینا رکھا اور ایسا اندھا رہا کہ خدا کے نبی کو شناخت نہ کر سکا ۔ اس کی مؤید یہ حدیث ہے کہ من مات ولم يعرف امام زمانه فقد مات ميتة الجاهلية یعنی جس شخص نے اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کیا وہ جاہلیت کی موت پر مر گیا اور صراط مستقیم سے بے نصیب رہا۔ ا بنی اسرائیل: ۷۳