حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 147

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۴۷ حقيقة الوح بر خلاف اس کے یہ بتلاوے کہ صرف توحید سے ہی نجات ہو سکتی ہے۔ قرآن شریف اور (۱۴۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی کچھ ضرورت نہیں اور طرفہ یہ کہ اس آیت میں تو حید کا ذکر بھی نہیں۔ اگر تو حید مراد ہوتی تو یوں کہنا چاہیے تھا کہ مَنْ آمَنَ بِالتَّوحِيد مگر آیت کا تو یہ لفظ ہے کہ مَنْ آمَنَ بِالله - پس آمَنَ بِاللہ کا فقرہ ہم پر یہ واجب کرتا ہے کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ قرآن شریف میں اللہ کا لفظ کن معنوں پر آتا ہے۔ ہماری دیانت کا یہ تقاضا ہونا چاہیے کہ جب ہمیں خود قرآن سے ہی یہ معلوم ہوا کہ اللہ کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے قرآن بھیجا اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تو ہم اُسی معنی کو قبول کر لیں جو قرآن شریف نے بیان کئے اور خود روی اختیار نہ کریں۔ ماسوا اس کے ہم بیان کر چکے ہیں کہ نجات حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی ہستی پر کامل یقین پیدا کرے اور نہ صرف یقین بلکہ اطاعت کے لئے بھی کمر بستہ ہو جائے اور اس کی رضامندی کی راہوں کو شناخت کرے۔ اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے یہ دونوں باتیں محض خدا تعالیٰ کے رسولوں کے ذریعہ سے ہی حاصل ہوتی آئی ہیں پھر کس قدر یہ لغو خیال ہے کہ ایک شخص تو حید تو رکھتا ہو مگر خدا تعالیٰ کے رسول پر ایمان نہیں لاتا وہ بھی نجات پائے گا۔ اے عقل کے اندھے اور نا دان ! توحید۔ بجز ذریعہ رسول کے کب حاصل ہوسکتی ہے۔ اس کی تو ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے ایک شخص روز روشن سے تو نفرت کرے اور اُس سے بھاگے اور پھر کہے کہ میرے لئے آفتاب ہی کافی ہے دن کی کیا حاجت ہے۔ وہ نادان نہیں جانتا کہ کیا آفتاب کبھی دن سے علیحدہ بھی ہوتا ہے۔ ہائے افسوس یہ نادان نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ کی ذات تو مخفی در مخفی اور غیب در غیب اور وراء الوراء ہے اور کوئی معقل اس کو دریافت نہیں کر سکتی جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكَ الْأَبْصَارَ یعنی بصارتیں اور بصیرتیں اس کو پا نہیں سکتیں اور وہ اُن کے انتہا کو جانتا ہے اور اُن پر غالب ہے۔ پس اُس کی توحید محض عقل کے ذریعہ سے غیر ممکن ہے کیونکہ توحید کی حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ انسان آفاقی الانعام : ۱۰۴