حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 146

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۴۶ حقيقة (۱۴۲) اختیار نہیں ہے کہ ان معنوں کو بدل ڈالے اور ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ اپنی طرف سے کوئی ایسے معنی ایجاد کریں کہ جو قرآن شریف کے بیان کردہ معنوں سے مغائر اور مخالف ہوں ہم نے اول سے آخر تک قرآن شریف کو غور سے دیکھا ہے اور توجہ سے دیکھا۔ اور بار بار دیکھا اور اس کے معانی میں خوب تدبر کیا ہے ہمیں بدیہی طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ قرآن شریف میں جس قدر صفات اور افعال الہیہ کا ذکر ہے ان سب صفات کا موصوف اسم اللہ ٹھہرایا گیا ہے۔ مثلاً کہا گیا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ۔ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، ایسا ہی اس قسم کی اور بہت سی آیات ہیں جن میں یہ بیان ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے قرآن اتارا۔ اللہ وہ ہے جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔ پس جبکہ قرآنی اصطلاح میں اللہ کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے لہذا یہ ضروری ہے کہ جو شخص اللہ پر ایمان لاوے تبھی اُس کا ایمان معتبر اور صحیح سمجھا جائے گا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاوے۔خدا تعالیٰ نے اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ مَنْ آمَنَ بِالرَّحمن يا مَنْ امَنَ بِالرَّحِيم يا مَنْ آمَنَ بالكريم بلكه يد فرمايا كه مَنْ آمَنَ بالله اور اللہ سے مراد وہ ذات ہے جو مجمع جمیع صفات کا ملہ ہے اور ایک عظیم الشان صفت اُس کی یہ ہے کہ اُس نے قرآن شریف کو اُتارا۔ اس صورت میں ہم صرف ایسے شخص کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ وہ اللہ پر ایمان لایا جبکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لایا ہو اور قرآن شریف پر بھی ایمان لایا ہو ۔ اگر کوئی کہے کہ پھر ان الذین امنوا کے کیا معنی ہوئے تو یادر ہے کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ جو لوگ محض خدا تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اُن کا ایمان معتبر نہیں ہے۔ جب تک خدا کے رسول پر ایمان نہ لاویں یا جب تک اُس ایمان کو کامل نہ کریں۔ اس بات کو یا در رکھنا چاہیے کہ قرآن شریف میں اختلاف نہیں ہے۔ پس یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ صدہا آیتوں میں تو خدا تعالی یہ فرما دے کہ صرف توحید کافی نہیں ہے بلکہ اُس کے نبی پر ایمان لانا نجات کے لئے ضروری ہے بجز اس صورت کے کہ کوئی اس نبی سے بے خبر رہا ہو اور پھر کسی ایک آیت میں الفاتحة : ٣،٢