حقیقةُ الوحی — Page 144
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۴۴ حقيقة ا اُس کے کلام میں شوکت اور ہیبت اور بلندی آواز ہوتی ہے اور کلام پر اثر اور لذیذ ہوتا ہے اور شیطان کا کلام دھیما اور زنانہ اور مشتبہ رنگ میں ہوتا ہے اس میں ہیبت اور شوکت اور بلندی نہیں ہوتی اور نہ وہ بہت دیر تک چل سکتا ہے گویا جلدی تھک جاتا ہے اور اس میں بھی کمزوری اور بُزدلی ٹپکتی ہے مگر خدا کا کلام تھکنے والا نہیں ہوتا اور ہر ایک قسم کی طاقت اپنے اندر رکھتا ہے اور بڑے بڑے غیبی امور اور اقتداری وعدوں پر مشتمل ہوتا ہے اور خدائی جلال اور عظمت اور قدرت اور قدوسی کی اُس سے بو آتی ہے۔ اور شیطان کے کلام میں یہ خاصیت نہیں ہوتی اور نیز خدا تعالیٰ کا کلام ایک قومی تاثیر اپنے اندر رکھتا ہے اور ایک میخ فولادی کی طرح دل میں پھنس جاتا ہے اور دل پر ایک پاک اثر کرتا ہے اور دل کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور جس پر نازل ہوتا ہے اُس کو مرد میدان کر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر اُس کو تیز تلوار کے ساتھ ٹکڑہ ٹکڑہ کر دیا جاوے یا اُس کو پھانسی دیا جاوے یا ہر ایک قسم کا دکھ جو دنیا میں ممکن ہے پہنچایا جاوے اور ہر ایک قسم کی بے عزتی اور توہین کی جائے یا آتش سوزاں میں بٹھایا جاوے یا جلایا جاوے وہ بھی نہیں کہے گا کہ یہ خدا کا کلام نہیں جو میرے پر نازل ہوتا ہے کیونکہ خدا اس کو یقین کامل بخش دیتا ہے اور اپنے چہرہ کا عاشق کر دیتا ہے اور جان اور عزت اور مال اُس کے نزدیک ایسا ہوتا ہے جیسا کہ ایک تنکا۔ وہ خدا کا دامن نہیں چھوڑتا اگر چہ تمام دنیا اُس کو اپنے پیروں کے نیچے کچل ڈالے اور توکل اور شجاعت اور استقامت میں بے مثل ہوتا ہے مگر شیطان سے الہام پانے والے یہ قوت نہیں پاتے۔ وہ بزدل ہوتے ہیں کیونکہ شیطان بزدل ہے۔ بالآخر ہم یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ امر جو عبد الحکیم خان کی ضلالت کا باعث ہوا ہے جس کی وجہ سے اُس کو یہ خیال گذرا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی ضرورت نہیں وہ قرآن شریف کی ایک آیت کی غلط فہمی ہے جو باعث کمی علم اور کمی تدبر کے اُس سے ظہور میں آئی اور وہ آیت یہ ہے اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَ النَّصْرُى (1) وَالطَّبِينَ مَنْ مَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ( ترجمہ ) یعنی جو لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں اور البقرة: ٦٣