حقیقةُ الوحی — Page 126
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۲۶ حقيقة الوح پھر ایک اور خوشی کا موقعہ ہمارے مخالفوں کو پیش آیا کہ جب چراغ دین جموں والا جو میرا مرید تھا۔ مرند ہو گیا اور بعد ارتداد میں نے رسالہ دافع البلاء و معیار اہل الاصطفاء میں اُسکی نسبت خدا تعالیٰ سے یہ الہام پا کر شائع کیا کہ وہ غضب الہی میں مبتلا ہو کر ہلاک کیا جائے گا تو بعض مولویوں نے محض میری ضد سے اُس کی (۱۲۳) رفاقت اختیار کی اور اس نے ایک کتاب بنائی جس کا نام منارہ اُسیح رکھا اور اس میں مجھے دجال قرار دیا اور اپنا یہ الہام شائع کیا کہ میں رسول ہوں اور خدا کے مرسلوں میں سے ایک مرسل ہوں اور حضرت عیسی نے مجھے ایک عصا دیا ہے کہ تا میں اس عصا سے اس دجال کو ( یعنی مجھ کو ) قتل کروں چنانچہ منارۃ المسیح میں قریب نصف کے یہی بیان ہے کہ یہ شخص دجال ہے اور میرے ہاتھ سے تباہ ہوگا ۔ اور بیان کیا کہ یہی خبر مجھے خدا نے اور عیسی نے بھی دی ہے مگر آخر کار جو ہوا لوگوں نے سنا ہوگا کہ یہ شخص ۴ اپریل ۱۹۰۶ء کو مع اپنے دونو بیٹوں کے طاعون سے فوت ہو کر میری پیشگوئی کی تصدیق کر گیا اور بڑی نومیدی سے اُس نے جان دی اور مرنے سے چند دن پہلے ایک مباہلہ کا کا غذ اس نے لکھا جس میں اپنا اور میرا نام ذکر کر کے خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے و ہلاک ہو۔ خدا کی قدرت کہ وہ کاغذا بھی کا تب کے ہاتھ میں ہی تھا اور وہ کا پی لکھ رہا تھا کہ چراغ دین مع اپنے دونو بیٹوں کے اُسی دن ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گیا۔ فَاعْتَبِرُوا يَأُولِي الْأَبْصَارِ یہ ہیں میرے مخالف الہاموں کا دعویٰ کرنے والے جو مجھے دجال ٹھیراتے ہیں۔ کوئی شخص اُن کے انجام پر غور نہیں کرتا ۔ القصہ حضرات مولوی صاحبان چراغ دین مرتد کا ساتھ دے کر بھی اپنی مراد کو نہ پہنچ سکے۔ پھر بعد اسکے ایک اور چراندین پیدا ہوا یعنی ڈاکٹر عبد الحکیم خان ۔ یہ شخص بھی مجھے دجال ٹھیراتا ہے اور پہلے چراغدین کی طرح اپنے تئیں مُرسلین میں سے شمار کرتا ہے مگر معلوم نہیں کہ پہلے چراغدین کی طرح میرے قتل کرنے کے لئے اس کو بھی حضرت عیسی نے عصا دیا ہے یا نہیں ۔ تکبر اور غرور میں تو پہلے حضرت عیسی نے جو میرے قتل کرنے کے لئے چراغ دین کو عصاد یا معلوم نہیں کہ یہ جوش اور غضب کیوں اُن کے دل میں بھڑکا۔ اگر اس لئے ناراض ہو گئے کہ میں نے اُن کا مرنا دنیا میں شائع کیا ہے تو یہ اُن کی غلطی ہے۔ یہ میں نے شائع نہیں کیا بلکہ اس نے شائع کیا ہے جس کی مخلوق ہماری طرح حضرت عیسی بھی ہیں۔ اگر شک ہو تو یہ آیت دیکھیں مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اور نیز یہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ ۳ ۔ اور تعجب کہ جس کو وہ میرے ہلاک کرنے کے لئے عصا دیتے ہیں وہ آپ ہی ہلاک ہو جاتا ہے یہ خوب عصا ہے۔ سنا ہے کہ دوسرے چراغ دین یعنی عبدالحکیم خان نے بھی میری موت کے بارے میں کوئی پیشگوئی پہلے چراغ دین کی طرح کی ہے مگر معلوم نہیں کہ اُس میں کوئی عصا کا بھی ذکر ہے یا نہیں ۔ منہ الحشر : ۳ ۲ آل عمران: ۱۴۵ ۳ المائدة : ۱۱۸