حقیقةُ الوحی — Page 119
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۱۹ حقيقة مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اُس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کے کی جان گداز ہوئی اس لئے خدا نے جو اُس کے دل کے راز کا واقف تھا اُس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اُس کی زندگی میں اُس کو دیں۔ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اُس کے بے کسی فضیلت کا دعوی کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کبھی اُس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اُس کو عطا کیا گیا ہے۔ جو اُس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم از لی ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ ہم کا فرنعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اسکے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اُس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اُسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔ وہ لوگ جو اس غلط خیال پر جمے ہوئے ہیں کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لاوے یا مرتد ہو جائے اور توحید پر قائم ہوا اور خدا کو واحد لا شریک جانتا ہو وہ بھی نجات پا جائے گا اور ایمان نہ لانے یا مرتد ہونے سے اس کا کچھ بھی حرج نہ ہوگا جیسا کہ عبد الحلیم خان کا مذہب ہے ایسے لوگ در حقیقت توحید کی حقیقت سے ہی بے خبر ہیں ۔ ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ یوں تو شیطان بھی خدا تعالی کو واحد لاشریک سمجھتا ہے ۔ بقیه حاشیه زنده آسمان پر موجود ہے کیونکہ ہم اُس کی زندگی کے صریح آثار پاتے ہیں۔ اس کا دین زندہ ہے اس کی پیروی کرنے والا زندہ ہو جاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے زندہ خدامل جاتا ہے۔ ہم نے دیکھ لیا ہے کہ خدا اس سے اور اس کے دین سے اور اس کے محب سے محبت کرتا ہے۔ اور یادر ہے کہ در حقیقت وہ زندہ ہے اور آسمان پر سب سے اس کا مقام برتر ہے لیکن یہ جسم عنصری جو فانی ہے یہ نہیں ہے بلکہ ایک اور نورانی جسم کے ساتھ جو لا زوال ہے اپنے خدائے مقتدر کے پاس آسمان پر ہے۔ منہ