حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 118

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۱۸ حقيقة الوح (۱۵) کوشش کرتا ہے مگر انبیاء علیہم السلام دوسروں کیلئے کوشش کرتے ہیں۔ لوگ سوتے ہیں اور وہ ان کے لئے جاگتے ہیں۔ اور لوگ بنتے ہیں اور وہ اُن کے لئے روتے ہیں اور دنیا کی رہائی کے لئے ہر ایک مصیبت کو بخوشی اپنے پر وارد کر لیتے ہیں۔ یہ سب اس لئے کرتے ہیں کہ تا خدا تعالی کچھ ایسی تجلی فرمادے کہ لوگوں پر ثابت ہو جاوے کہ خدا موجود ہے اور مستعد دلوں پر اُس کی ہستی اور اُس کی تو حید منکشف ہو جاوے تا کہ وہ نجات پائیں۔ پس وہ جانی دشمنوں کی ہمدردی میں مر رہتے ہیں۔ اور جب انتہا درجہ پر اُن کا درد پہنچتا ہے اور ان کی درد ناک آہوں سے ( جو مخلوق کی رہائی کیلئے ہوتی ہیں ) آسمان پر ہو جاتا ہے۔ تب خدا تعالیٰ اپنے چہرہ کی چمک دکھلاتا ہے اور زبردست نشانوں کے ساتھ اپنی ہستی اور اپنی توحید لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔ پس اس میں شک نہیں کہ تو حید اور خدا دانی کی متاع رسول کے دامن سے ہی دنیا کو ملتی ہے بغیر اس کے ہر گز نہیں مل سکتی اور اس امر میں سب سے اعلیٰ نمونہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا کہ ایک قوم جو نجاست پر بیٹھی ہوئی تھی اُن کو نجاست سے اُٹھا کر گزار میں پہنچا دیا۔ اور وہ جو روحانی بھوک اور پیاس سے مرنے لگے تھے اُن کے آگے روحانی اعلیٰ درجہ کی غذا ئیں اور شیر میں شربت رکھ دئے۔ اُن کو وحشیانہ حالت سے انسان بنایا۔ پھر معمولی انسان سے مہذب انسان بنایا پھر مہذب انسان سے کامل انسان بنایا اور اس قدر اُن کے لئے نشان ظاہر کئے کہ اُن کو خدا دکھلا دیا اور اُن میں ایسی تبدیلی پیدا کر دی کہ اُنہوں نے فرشتوں سے ہاتھ جا ملائے۔ یہ تاثیر کسی اور نبی سے اپنی اُمت کی نسبت ظہور میں نہ آئی کیونکہ اُن کے صحبت یاب ناقص رہے پس میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے ہزار ہزار درود اور سلام اُس پر ) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں ۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اُس کے حمد یہ عجیب بات ہے کہ دنیا ختم ہونے کو ہے مگر اس کامل نہی کے فیضان کی شعائیں اب تک ختم نہیں ہوئیں اگر خدا کا کلام قرآن شریف مانع نہ ہوتا تو فقط یہی نہی تھا جس کی نسبت ہم کہ سکتے تھے کہ وہ اب تک مع جسم عنصری