حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 117

روحانی خزائن جلد ۲۲ 112 حقيقة الوح اپنے اندر رکھتا ہے۔ اور نیز کمال درجہ کی ہمدردی بنی نوع کی اس کی فطرت میں ہے تجلی فرماتا ہے اور اُس پر اپنی ہستی اور صفات از لیہ ابدیہ کے انوار ظاہر کرتا ہے اور اس طرح وہ خاص اور اعلیٰ فطرت کا آدمی جس کو دوسرے لفظوں میں نبی کہتے ہیں اس کی طرف کھینچا جاتا ہے۔ پھر وہ نبی بوجہ اس کے کہ ہمدردی بنی نوع کا اس کے دل میں کمال درجہ پر جوش ہوتا ہے اپنی روحانی تو جہات اور تضرع اور انکسار سے یہ چاہتا ہے کہ وہ خدا جو اُس پر ظاہر ہوا ہے۔ دوسرے لوگ بھی اُس کو شناخت کریں اور نجات پاویں اور وہ دلی خواہش سے اپنے وجود کی قربانی خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرتا ہے اور اس تمنا سے کہ لوگ زندہ ہو جائیں کئی موتیں اپنے لئے قبول کر لیتا ہے اور بڑے مجاہدات میں اپنے تئیں ڈالتا ہے جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِيْنَ تب اگر چہ خدا مخلوق سے بے نیاز اور مستغنی ہے مگر اُس کے دائمی غم اور حزن اور کرب وقلق اور تذلل اور نیستی اور نہایت درجہ کے صدق اور صفا پر نظر کر کے مخلوق کے مستعد دلوں پر اپنے نشانوں کے ساتھ اپنا چہرہ ظاہر کر دیتا ہے اور اُس کی پُر جوش دعاؤں کی تحریک سے جو آسمان پر ایک صعبناک شور ڈالتی ہیں خدا تعالی کے نشان زمین پر بارش کی طرح برستے ہیں۔ اور عظیم الشان خوارق دنیا کے لوگوں کو دکھلائے جاتے ہیں جن سے دنیا دیکھ لیتی ہے کہ خدا ہے اور خدا کا چہرہ نظر آ جاتا ہے لیکن اگر وہ پاک نبی اس قدر دعا اور تضرع اور ابتہال سے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ نہ کرتا اور خدا کے چہرہ کی چمک دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے اپنی قربانی نہ دیتا اور ہر ایک قدم میں صدہا موتیں قبول نہ کرتا تو خدا کا چہرہ دنیا پر ہرگز ظاہر نہ ہوتا کیونکہ خدا تعالیٰ بوجہ استغناء ذاتی کے بے نیاز ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے إِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِيْنَ اور وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا یعنی خدا تو تمام دنیا سے بے نیاز ہے اور جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں اور ہماری طلب میں کوشش کو انتہا تک پہنچادیتے ہیں انہیں کے لئے ہمارا یہ قانون قدرت ہے کہ ہم اُن کو اپنی راہ دکھلا دیا کرتے ہیں۔ سوخدا کی راہ میں سب سے اول قربانی دینے والے نبی ہیں۔ ہر ایک اپنے لئے (ترجمہ) یعنی کیا تو اس غم میں اپنے تئیں ہلاک کر دے گا کہ یہ کا فرلوگ کیوں ایمان نہیں لاتے ۔ منہ الشعراء : ال عمران : ۹۸ العنكبوت :٧٠