حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 116

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۱۶ حقيقة الوح ۱۳) بھیجتا ہے اور اپنی وحی اس پر نازل کرتا ہے اور اپنی ربوبیت کی طاقتیں اس کے ذریعہ سے دکھلاتا ہے۔ تب دنیا کو پتہ لگتا ہے کہ خدا موجود ہے۔ پس جن لوگوں کا وجو دضروری طور پر خدا کے قدیم قانونِ ازلی کے رو سے خداشناسی کے لئے ذریعہ مقرر ہو چکا ہے اُن پر ایمان لانا توحید کی ایک جزو ہے اور بجز اس ایمان کے توحید کامل نہیں ہو سکتی کیونکہ ممکن نہیں کہ بغیر اُن آسمانی نشانوں اور قدرت نما عجائبات کے جو نبی دکھلاتے ہیں اور معرفت تک پہنچاتے ہیں وہ خالص تو حید جو چشمہء یقین کامل سے پیدا ہوتی ہے میسر آسکے۔ وہی ایک قوم ہے جو خدا نما ہے جن کے ذریعہ سے وہ خدا جس کا وجود دقیق در دقیق اور مخفی در مخفی اور غیب الغیب ہے ظاہر ہوتا ہے اور ہمیشہ سے وہ کنز مخفی جس کا نام خدا ہے نبیوں کے ذریعہ سے ہی شناخت کیا گیا ہے۔ ورنہ وہ تو حید جو خدا کے نزدیک تو حید کہلاتی ہے جس پر عملی رنگ کامل طور پر چڑھا ہوا ہوتا ہے اُس کا حاصل ہونا بغیر ذریعہ نبی کے جیسا کہ خلاف عقل ہے ویسا ہی خلاف تجارب سالکین ہے۔ بعض نادانوں کو جو یہ وہم گذرتا ہے کہ گویا نجات کے لئے صرف توحید کافی ہے نبی پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں۔ گویا وہ رُوح کو جسم سے علیحدہ کرنا چاہتے ہیں یہ وہم سراسر دلی کوری پر مبنی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جبکہ توحید حقیقی کا وجود ہی نبی کے ذریعہ سے ہوتا ہے اور بغیر اس کے ممتنع اور محال ہے تو وہ بغیر نبی پر ایمان لانے کے میسر کیونکر آسکتی ہے اور اگر نبی کو جو جڑھ توحید کی ہے ایمان لانے میں علیحدہ کر دیا جائے تو تو حید کیونکر قائم رہے گی ۔ توحید کا موجب اور توحید کا پیدا کرنے والا اور توحید کا باپ اور توحید کا سر چشمہ اور توحید کا مظہر اتم صرف نبی ہی ہوتا ہے اُسی کے ذریعہ سے خدا کا مخفی چہرہ نظر آتا ہے اور پتہ لگتا ہے کہ خدا ہے۔ بات یہ ہے کہ ایک طرف تو حضرت احدیت جلّ شانہ کی ذات نہایت درجہ استغنا اور بے نیازی میں پڑی ہے اُس کو کسی کی ہدایت اور ضلالت کی پروا نہیں۔ اور دوسری طرف وہ بالطبع یہ بھی تقاضا فرماتا ہے کہ وہ ۱۴) شناخت کیا جائے اور اُس کی رحمت ازلی سے لوگ فائدہ اُٹھا دیں۔ پس وہ ایسے دل پر جو اہل زمین کے تمام دلوں میں سے محبت اور قرب او سبحانہ کا حاصل کرنے کیلئے کمال درجہ پر فطرتی طاقت