حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 115

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۱۵ حقيقة الوحي اور اُن کی ترتیب ابلغ اور محکم پر نظر ڈال کر ایک صحیح الفطرت اور سلیم العقل انسان دریافت کر سکتا (۱۳) ہے کہ اس کا رخانہ پر حکمت کا بنانے والا کوئی ضرور ہونا چاہیے لیکن اس فقرہ میں کہ ضرور ہونا چاہیے اور اس فقرہ میں کہ واقعی وہ موجود ہے بہت فرق ہے۔ واقعی وجود پر اطلاع دینے والے صرف انبیاء علیہم السلام ہیں جنہوں نے ہزار ہا نشانوں اور معجزات سے دنیا پر ثابت کر دکھایا کہ وہ ذات جو مخفی در مخفی اور تمام طاقتوں کی جامع ہے در حقیقت موجود ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اس قدر عقل بھی کہ نظام عالم کو دیکھ کر صانع حقیقی کی ضرورت محسوس ہو۔ یہ مرتبہ عقل بھی نبوت کی شعاعوں سے ہی مستفیض ہے۔ اگر انبیاء علیہم السلام کا وجود نہ ہوتا تو اس قدر عقل بھی کسی کو حاصل نہ ہوتی۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اگر چہ زمین کے نیچے پانی بھی ہے مگر اس پانی کا بقاء اور وجود آسمانی پانی سے وابستہ ہے۔ جب کبھی ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ آسمان سے پانی نہیں برستا تو زمینی پانی بھی خشک ہو جاتے ہیں۔ اور جب آسمان سے پانی برستا ہے تو زمین میں بھی پانی جوش مارتا ہے۔ اسی طرح انبیاء علیہم السلام کے آنے سے عقلیں تیز ہو جاتی ہیں اور عقل جو زمینی پانی ہے اپنی حالت میں ترقی کرتی ہے۔ اور پھر جب ایک مدت دراز اس بات پر گذرتی ہے کہ کوئی نبی مبعوث نہیں ہوتا تو عقلوں کا زمینی پانی گندہ اور کم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور دنیا میں بت پرستی اور شرک اور ہر ایک قسم کی بدی پھیل جاتی ہے۔ پس جس طرح آنکھ میں ایک روشنی ہے اور وہ باوجود اس روشنی کے پھر بھی آفتاب کی محتاج ہے اسی طرح دنیا کی عقلیں جو آنکھ سے مشابہ ہیں ہمیشہ آفتاب نبوت کی محتاج رہتی ہیں اور جبھی کہ وہ آفتاب پوشیدہ ہو جائے اُن میں فی الفور کدورت اور تاریکی پیدا ہو جاتی ہے۔ کیا تم صرف آنکھ سے کچھ دیکھ سکتے ہو؟ ہر گز نہیں ۔ اسی طرح تم بغیر نبوت کی روشنی کے بھی کچھ نہیں دیکھ سکتے۔ پس چونکہ قدیم سے اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے خدا کا شناخت کرنا نبی کے شناخت کرنے سے وابستہ ہے اس لئے یہ خود غیر ممکن اور محال ہے کہ بجز ذریعہ نبی کے توحیدمل سکے۔ نبی خدا کی صورت دیکھنے کا آئینہ ہوتا ہے اسی آئینہ کے ذریعہ سے خدا کا چہرہ نظر آتا ہے۔ جب خدا تعالیٰ اپنے تئیں دنیا پر ظاہر کرنا چاہتا ہے تو نبی کو جو اس کی قدرتوں کا مظہر ہے دنیا میں