حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 98

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۹۸ حقيقة وانت فيهم ـ امن است در مکان محبت سرائے ما ۔ بھونچال کہ جن میں تو ہے ان کو عذاب کرے۔ ہماری محبت کا گھر امن کا گھر ہے۔ ایک زلزلہ ی آیا اور شدت سے آیا ۔ زمین تہ و بالا کر دی۔ یوم تــــــا تــــــى الـســـــمــــــاء آئے گا اور بڑی سختی سے آئے گا۔ اور زمین کو زیر وزبر کر دے گا۔ اُس دن آسمان سے خامدة و تری الارض يومئذ بدخان مبین ایک کھلا کھلا دھواں نازل ہوگا۔ اور اس دن زمین زرد پڑ جائے گی یعنی سخت قحط کے آثار ظاہر ہوں گے ۹۵ مصفرة - اکرمک بعد توهینک يريدون ان لا يتم میں بعد اس کے جو مخالف تیری تو ہین کریں تجھے عزت دوں گا اور تیرا اکرام کروں گا۔ وہ ارادہ کریں گے جو تیرا کام نا تمام رہے امرک - والله يابى الا ان يتم امرك - اني انا الرحمن - سأجعل اور خدانہیں چاہتا جو تجھے چھوڑ دے جب تک تیرے تمام کام پورے نہ کرے۔ میں رحمان ہوں۔ ہر ایک امر لك سهولة فـــي كـل امـــر ـ أريك بــركـــات مــن كلّ طرف ـ میں تجھے سہولت دُوں گا۔ ہر ایک طرف سے تجھے برکتیں دکھلاؤں گا۔ نزلت الرحمة على ثلاث العين وعلى الأخـريـيـن ــ تـرد الیک میری رحمت تیرے تین عضو پر نازل ہے ایک آنکھیں اور دو اور عضو میں یعنی ان کو سلامت رکھوں گا ۔ اور جوانی کے نور انوار الشباب - ترى نسلاً بعيدا ـ انــا نبـشـــرك بـغـلام مـظـهـر تیری طرف عود کر یں گے۔ اور تو اپنی ایک دور کی نسل کو دیکھ لیگا۔ ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جس کے ساتھ ید یعنی اس زلزلہ کے لئے جو قیامت کا نمونہ ہوگا یہ علامتیں ہیں کہ کچھ دن پہلے اس سے قحط پڑے گا اور زمین خشک رہ جائے گی۔ نہ معلوم کہ معاً اس کے بعد یا کچھ دیر کے بعد زلزلہ آئے گا۔ منہ یعنی وہ بڑے نشان جو دنیا میں ظاہر ہوں گے ضرور ہے جو پہلے ان سے توہین کی جائے اور طرح طرح کی بُری باتیں کہی جائیں اور الزام لگائے جائیں ۔ تب بعد اس کے آسمان سے خوفناک نشان ظاہر ہوں گے۔ یہی سنت اللہ ہے کہ پہلی نوبت منکروں کی ہوتی ہے اور دوسری خدا کی ۔ منہ 66 یہ خدا تعالیٰ کی وحی یعنی "تری نسلا بعيدًا ، قریباً تمیں سال کی ہے ۔ منہ