حقیقةُ الوحی — Page 89
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۸۹ حقيقة اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ انـــت مــنـى بـمــنــزلة تـوحـيـدى تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری تو حید وتــفــــريـــدى فــحــان ان تُــــــان وتـعـــرف بيــن الــنــــاس اور تفرید۔ پس وہ وقت آتا ہے کہ تو مدد دیا جائے گا اور دنیا میں مشہور کیا جائے گا۔ سے انت منی بمنزلة عرشي انت منی بمنزلة ولدى تو مجھ سے بمنزلہ میرے عرش کے ہے۔ تو مجھے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔ انت منـى بـمـنـزلة لا يـعـلـمهـا الـخـلـق۔ نـحـن اوليــاء كـم تو مجھ سے بمنزلہ اس انتہائی قرب کے ہے جس کو دنیا نہیں جان سکتی۔ ہم تمہارے متولی اور حاش خالی نہیں جائے گی۔ چنانچہ اُسی دن بلکہ اُسی وقت لڑکے کی حالت روبہ صحت ہو گئی گویا وہ قبر میں سے نکلا۔ میں یقیناً جانتا ہوں کہ معجزات احیائے موتی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سے زیادہ نہ تھے۔ میں خدا کا شکر کرتا ہوں کہ اس قسم کے احیائے موئی بہت سے میرے ہاتھ سے ظہور میں آچکے ہیں۔ اور ایک دفعہ بشیر احمد میر الڑ کا آنکھوں کی بیماری سے بیمار ہو گیا اور مدت تک علاج ہوتا رہا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ تب اُس کی اضطراری حالت دیکھ کر میں نے جناب الہی میں دعا کی تو یہ الہام ہوا برق طفلی بشیر یعنی میرے لڑکے بشیر نے آنکھیں کھول دیں تب اُسی دن خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے اُس کی آنکھیں اچھی ہوگئیں۔ اور ایک مرتبہ میں خود بیمار ہو گیا یہاں تک کہ قرب اجل سمجھ کر تین مرتبہ مجھے سورة يس خدا تعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے اور یہ کلمہ بطور استعارہ کے ہے چونکہ اس زمانہ میں ایسے ایسے الفاظ سے نادان عیسائیوں نے حضرت عیسی کو خدا ٹھیرا رکھا ہے اس لئے مصلحت الہی نے یہ چاہا کہ اس سے بڑھ کر الفاظ اس عاجز کے لئے استعمال کرے تا عیسائیوں کی آنکھیں کھلیں اور وہ سمجھیں کہ وہ الفاظ جن سے صحیح کو وہ خدا بناتے ہیں اس اُمت میں بھی ایک ہے جس کی نسبت اس سے بڑھ کر ایسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ۔ منہ