حقیقةُ الوحی — Page 81
روحانی خزائن جلد ۲۲ ΔΙ حقيقة سيهزم الجمع ويولون الدبر - انك اليـوم لــديــنـــا مـكـيـن (۷۸) یہ سب لوگ بھاگ جائیں گے اور پیٹھ پھیر لیں گے تو ہمارے نزدیک آج صاحب مرتبہ امین - وان علیک رحمتی فی الدنيا والدين وانك امین ہے اور تیرے پر میری رحمت دنیا اور دین میں ہے اور تو اُن لوگوں میں سے ہے من المنصورين - يـحـمـدك اللـه ویـمشـی الیک ـ سبحان جن کے شامل نصرت الہی ہوتی ہے۔ خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چل رہا ہے۔ وہ پاک ذات الذى اسرى بعبده ليـــــــــلا ـ خـــلـــق آدم فـــــاكــــرمـــــه ـ وہی خدا ہے جس نے ایک رات میں تجھے سیر کرا دیا۔ اُس نے اس آدم کو پیدا کیا اور پھر اس کو عزت دی۔ اس کو پالیتا ۔ پھر اپنی ایک اور وحی میں مجھ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے خذوا التوحيد التوحيد یا ابناء الفارس ۔ یعنی تو حید کو پکڑ وتو حید کو پکڑ والے فارس کے بیٹو۔ ان تمام کلمات الہیہ سے ثابت ہے کہ اس عاجز کا خاندان دراصل فارسی ہے نہ مغلیہ ۔ نہ معلوم کس غلطی سے مغلیہ خاندان کے ساتھ مشہور ہو گیا اور جیسا کہ ہمیں اطلاع دی گئی ہے میرے خاندان کا شجرہ نسب اس طرح پر ہے کہ میرے والد کا نام میرزا غلام مرتضی تھا اور اُن کے والد کا نام میرزا عطا محمد ۔ میرزا عطا محمد کے والد میرزا گل محمد ۔ میرزا گل محمد کے والد میرزا فیض محمد اور میرزا فیض محمد کے والد میرزا محمد قائم ۔ میرزا محمد قائم کے والد میرزا محمد اسلم ۔ میرزا محمد اسلم کے والد میرزا دلاور ۔ میرزا دلاور کے والد میرزا الہ دین ۔ میرزا الہ دین کے والد میرزا جعفر بیگ۔ میرزا جعفر بیگ کے والد میرزا محمد بیگ ۔ میرزا محمد بیگ کے والد میرزا عبدالباقی۔ میرزا عبدالباقی کے والد میرزامحمد سلطان ۔ میرزا محمد سلطان کے والد میرزا ہادی بیگ۔ معلوم ہوتا ہے کہ میرزا اور بیگ کا لفظ کسی زمانہ میں بطور خطاب کے ان کو ملا تھا جس طرح خان کا نام بطور خطاب دیا جاتا ہے۔ بہر حال جو کچھ خدا نے ظاہر فرمایا ہے وہی درست ہے انسان ایک ادنی سی لغزش سے غلطی میں پڑ سکتا ہے مگر خدا سہو اور غلطی سے پاک ہے۔ منہ ہو میرے خاندان کی نسبت ایک اور وحی الہی ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا میری نسبت فرماتا ہے سلمان منا اهل البيت ( ترجمہ ) سلمان یعنی یہ عاجز جود و صلح کی بنیاد ڈالتا ہے ہم میں سے ہے جو اہل بیت ہیں۔ یہ وحی الہی اس مشہور واقعہ کی تصدیق کرتی ہے جو بعض دادیاں اس عاجز کی سادات میں سے تھیں ۔ اور دو صلح سے مراد یہ ہے کہ خدا نے ارادہ کیا ہے کہ ایک صلح میرے ہاتھ سے اور میرے ذریعہ سے اسلام کے اندرونی فرقوں میں ہوگی اور بہت کچھ تفرقہ اٹھ جائے گا اور دوسری صلح اسلام کے بیرونی دشمنوں کے ساتھ ہوگی کہ بہتوں کو اسلام کی حقانیت کی سمجھ دی جائے گی اور وہ اسلام میں داخل ہو جائیں گے تب خاتمہ ہو گا۔ منہ ☆