حَمامة البشریٰ — Page 359
قرآن کریم کلام ربانی ہے۔ہر آیت اس کی قطعی متواتر ہے اور احادیث سوائے نادر کے احاد ہیں ۲۰۵ حفاظت قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے ۲۱۶ قرآن کریم میں استعارات کے استعمال کی مثالیں ۲۶۲ قیامت قیامت کی نشانیاں صغرٰی اور کبرٰی بیان کی گئی ہیں ۳۰۳ ، ۳۰۴ اگر یاجوج ماجوج ، دجال اور عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ظاہری رنگ میں قیامت سے پہلے تسلیم کریں تویہ خلاف قرآن ہے ۳۰۳،۳۰۴،۳۰۵ کشف حضرت عمرؓ کا ساریہ کو خطبہ جمعہ کے دوران پکارنا۔جو ساریہؓ کو ایک دور کی مسافت پر سنائی دی ۲۹ح،۳۰ حضرت اقدس مسیح موعود کو ایک صریح کشف کی رو سے متعصب اور کج دل لوگوں کے ساتھ مباحثات کرنے سے روکا گیا ۴۸ م۔ن مجدد ظہور امام مہدی پر ضرورت زمانہ کی دلیل ۱۷ اس زمانہ کے فساد اور لوگوں کے مذہبی معاشرتی حالات ۲۳۲ ، ۲۳۴ آخری زمانہ کے مجدد کو مسیح کا نام دینے کی دو وجوہات ۲۱۳، ۱۲۴ محدث /محدثیت امت محمدیہ میں سے محدثوں یعنی غیر نبی ملہم لوگوں کے آنے کی پیشگوئی ۱۵ مجدد امام سرہندی علیہ الرحمہ کے نزدیک محدث کی تعریف ۲۸ ح مقام نبوت اور محدثیت میں فرق۔محدث بالقوہ نبی ہوتا ہے ۳۰۰ مقام محدث کسب سے نہیں حاصل ہوتا ۳۰۱ مسلمان نیز (دیکھیں اسلام) سید عبد القادر جیلانی ؒ نے فتوح الغیب میں امت محمدیہ کے کامل افراد کو اوتادالارض قرار دیا ۲۶ ح الفاتحہ میں خوشخبری ہے کہ تم پہلے انعام یافتہ لوگوں کی طبیعتوں پر پیدا کئے گئے ہو پس کمالات کے حصول کے لئے مجاہدات کرو ۱۲۷ آیت وجاعل الذین اتبعوک سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان اور نصاریٰ تا قیامت زمین کے وارث رہیں گے ۱۹۳، ۱۹۴ ح احادیث میں آپس میں شدید تناقض ہے جس کی وجہ سے امت مسلمہ فرقوں میں بٹی ہوئی ہے ۲۱۷،۲۱۸ حضرت عیسیٰ کے حقیقی متبعین مسلمان ہیں عیسائی صرف اتباع کے دعویدار ہیں ۲۱۲ح ،۲۱۳ سورۃ الفاتحہ میںیہود و نصارٰی کے انجام کا ذکر اس طرف اشارہ کرتاہے کہ مسلمانوں کا بھی آخری زمانہ میں ان جیسا معاملہ ہو جائے گا ۱۲۵ مسلمان علماء امت مسلمہ کے بد حال علماء کا بیان ۱۸ علماء کا ازروئے حسد آپ کی تکفیر کرنا ۳۶،۲۱۱ مکفرین علماء کو ’’ کرامات الصادقین ‘‘ جیسا رسالہ لانے کا چیلنج ۴۲ مکفرین علماء باوجود میرے مسجد میں قسمیں کھانے کے کہ میں مسلمان ہوں فتاوی کفر سے باز نہ آئے ۴۵ مکفرین علماء کا آپؑ کو سراسر جاہل اور علم عربی سے بکلی بے خبر قرار دینا ۴۸ مکفرین علماء اور مشائخ پر اتمام حجت ۱۶۱ علماء ہند اب تک میری ہلاکت کے منتظر اور فتاوی کفر لکھتے ہیں ۱۸۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عقیدہ پر علماء کے گیارہ اعتراضات ۲۸۴،۲۸۵