گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 652
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۴۸ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے دنیا کے بعد ملے گی، سچی اور حقیقی نجات اسی دنیا میں ملتی ہے۔ وہ ایک روشنی ہے جو دلوں پر اترتی ہے اور دکھا دیتی ہے کہ کون سے ہلاکت کے گڑھے ہیں ۔ حق اور حکمت کی راہ پر چلو کہ اس سے خدا کو پاؤ گے اور اپنے دلوں میں گرمی پیدا کرو تا سچائی کی طرف حرکت کر سکو۔ بدنصیب ہے وہ دل جو ٹھنڈا پڑا ہے اور بد بخت ہے وہ طبیعت جو افسردہ ہے اور مردہ ہے وہ کانشنس جس میں چمک نہیں ۔ پس تم اس ڈول سے کم نہ رہو جو کنوئیں میں خالی گرتا اور بھر کر نکلتا ہے اور اس چھاننی کی صفت مت اختیار کرو جس میں کچھ بھی پانی نہیں ٹھہر سکتا اور ایک راہ سے آتا اور دوسری راہ سے چلا جاتا ہے۔ کوشش کرو کہ تندرست ہو جاؤ اور وہ دنیا طلبی کے تپ کی زہریلی گرمی دور ہو جائے جس کی وجہ سے نہ آنکھوں میں روشنی ہے نہ کان اچھی طرح سن (۲۹) سکتے ہیں نہ زبان کا مزہ درست ہے۔ اور نہ ہاتھوں میں زور اور نہ پیروں میں طاقت ہے۔ ایک تعلق کو قطع کرو تا دوسرا تعلق پیدا ہو۔ ایک طرف سے دل کو روکوتا دوسری طرف دل کو راہ مل جائے۔ زمین کا نجس کیڑا پھینک دوتا آسمان کا چمکیلا ہیرا تمہیں عطا ہو۔ اور اپنے مبدء کی طرف رجوع کرو وہی مبدء جبکہ آدم اس خدائی روح سے زندہ کیا گیا تھا تا تمہیں تمام چیزوں پر بادشاہت ملے جیسا کہ تمہارے باپ کو ملی۔ دن گزر گیا اب عصر کا وقت ہے چار بجنے کے قریب رات ہوا چاہتی ہے۔ سورج غروب ہونے کو ہے۔اب اگر دیکھنا ہے دیکھولو۔ پھر کیا دیکھو گے ۔ قبل اس کے کہ کوچ کرو ۔ اپنے کھانے کے لئے عمدہ چیزیں آگے بھیجو نہ پتھر اور اینٹ ۔ اور پہننے کے لئے لباس روانہ کرونہ کانٹے اور خس و خاشاک۔ وہ خدا جو بچے کے پیدا ہونے سے پہلے پستان میں دودھ ڈالتا ہے اس نے تمہارے لئے تمہارے ہی زمانہ میں تمہارے ہی ملکوں میں ایک بھیجا ہے تا ماں کی طرح اپنی چھاتیوں سے تمہیں دودھ پلا دے۔ وہی تمہیں یقین کا دودھ پلائے گا