گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 651 of 822

گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 651

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۴۷ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے وہ اور بھی جلن اور سوزش زیادہ کرتے ہیں۔ کوئی خون تمہیں فائدہ نہیں پہنچا سکتا مگر وہ خون جو یقین کی غذا سے خود تمہارے اندر پیدا ہو۔ اور کوئی صلیب تمہیں چھڑا نہیں سکتی مگر راہِ راست کی صلیب یعنی سچائی پر صبر کرنا۔ سو تم آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ کیا یہ سچ نہیں کہ تم روشنی سے ہی دیکھ سکتے ہو نہ کسی اور چیز سے اور صرف سیدھی راہ سے منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہو نہ کسی اور ﴿۲۸﴾ راہ سے۔ دنیا کی چیزیں تم سے نزدیک ہیں اور دین کی چیز میں دور ۔ پس جو نزدیک ہے انہیں پر غور کرو اور ان کا قانون سمجھ لو اور پھر دور کو اس پر قیاس کرلو۔ کیونکہ وہی ایک ہے جس نے یہ دونوں قانون بنائے ہیں۔ تم میں سے کون ہے جو بغیر آنکھوں کے دیکھ سکتا ہے یا بغیر کانوں کے سن سکتا ہے یا بغیر زبان کے بول سکتا ہے پھر تم کیوں اسی قانون سے روحانی امور میں فائدہ نہیں اٹھاتے ۔ تم آنکھوں کے ہوتے ہوئے کسی ایسے مقام پر ٹھہر سکتے ہو جوا تھاہ گڑھے کے قریب ہے یا کانوں کے ہوتے ہوئے تم ایسی آواز سے متنبہ نہیں ہو سکتے جو چوروں کی آمد کی تمہیں خبر دیتی ہے یا زبان کے ہوتے ہوئے جو تمہیں کڑوی اور شیریں میں فرق دکھلاتی ہے پھر بھی کڑوی اور زہریلی چیزیں کھا سکتے ہو جو تمہاری زبان کو کاٹیں اور تمہارے معدہ میں فساد پیدا کریں اور قے لاویں اور بدن کو سو جاویں اور انجام کار ہلاک کر دیں ۔ سو تم انہیں اعضا سے سمجھ لو کہ تم روحانی طور پر بھی روحانی زندگی کے لئے اس بات کے محتاج ہو کہ تمہیں ایک روشنی ملے جو بُرے راہوں کی برائی تمہیں دکھائی دے اور تمہیں ایک آواز ملے جو چوروں اور ڈاکوؤں کے گزرگاہ سے تمہیں علیحدہ کرے اور تمہیں ایک ذائقہ ملے جس سے تم کڑوی اور شیریں اور زہر اور تریاق میں فرق کر سکو سوجن باتوں کو ہلاکت سے بچنے کے لئے تمہیں طلب کرنا چاہیے وہ یہی ہیں۔ یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ تم بغیر روشنی حاصل کرنے کے محض اندھے رہ کر پھر کسی کے خون سے نجات پا جاؤ۔ نجات کوئی ایسی شے نہیں ہے جو اس