گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 645 of 822

گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 645

روحانی خزائن جلد ۱۸ 1 گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے حد سے باہر ہوں بپایہ ثبوت پہنچایا گیا ہے اور پھر با ایں ہمہ اس عقیدہ کی اصل غرض جس کے لئے یہ عقیدہ تراشا گیا تھا بالکل مفقود ہے۔ دنیا میں نفسانی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے بڑے بڑے دو گناہ ہیں ایک شراب نوشی اور ایک بدکاری ۔ اب کہو کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ان دو گنا ہوں میں یورپ کے اکثر مردوں اور عورتوں نے پورا حصہ لیا ہے بلکہ میں اس بات میں مبالغہ نہیں دیکھتا کہ شراب نوشی میں ایشیا کے تمام ملکوں کی نسبت یورپ بڑھا ہوا ہے اور یورپ کے اکثر شہروں میں شراب فروشی کی اس قدر دوکانیں ملیں گی کہ ہمارے قصبوں کی ہر قسم کی دوکا نہیں ملا کر بھی ان سے کمتر ہوں گی اور تجربہ شہادت دے رہا ہے کہ تمام گناہوں کی جڑھ شراب ہے کیونکہ وہ چند منٹ میں ہی بدمست بنا کر خون کرنے تک دلیر کر دیتی ہے اور دوسری قسم کا فسق و فجور اس کے ضروری لوازم ہیں۔ میں بیچ بیچ کہتا ہوں اور اس پر زور دیتا ہوں کہ شراب اور تقویٰ ہر گز جمع نہیں ہو سکتے۔ اور جو شخص اس کے بد نتیجوں سے آگاہ نہیں وہ عقلمند ہی نہیں اور اس میں ایک اور بڑی مصیبت ہے کہ اس کی عادت کو ترک کرنا ہر ایک کا کام نہیں۔ اب اگر یہ سوال پیش ہے کہ اگر خون مسیح گناہوں سے پاک نہیں کرسکتا جیسا کہ وہ واقعی طور پر پاک نہیں کر سکا تو پھر گناہوں سے پاک ہونے کا کوئی علاج بھی ہے یا نہیں کیونکہ گندی زندگی در حقیقت مرنے سے بدتر ہے ۔ تو میں اس سوال کے جواب میں نہ صرف پر زور دعوی سے بلکہ اپنے ذاتی تجربہ سے اور اپنی حقیقت اس آزمائشوں سے دیتا ہوں کہ درحقیقت گناہوں سے پاک ہونے کیلئے اس وقت سے جو انسان پیدا ہوا آج تک جو آخری ۲۴ دن میں صرف ایک ہی ذریعہ گناہ اور نا فرمانی سے بچنے کا ثابت ہوا ہے اور وہ یہ کہ انسان یقینی دلائل اور چمکتے ہوئے نشانوں کے ذریعہ سے اس معرفت تک پہنچ جائے کہ جو درحقیقت خدا کو دکھا دیتی ہے اور کھل جاتا ہے کہ خدا کا غضب ایک کھا جانے والی آگ ہے اور پھر تجلی حسن الہی ہو کر ثابت ہو جاتا ہے کہ ہر یک کامل لذت خدا میں ہے یعنی جلالی اور جمالی طور پر