گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 646
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۴۲ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے تمام پردے اٹھائے جاتے ہیں ۔ یہی ایک طریق ہے جس سے جذبات نفسانی رُکتے ہیں اور جس سے چار ناچار ایک تبدیلی انسان کے اندر پیدا ہو جاتی ہے۔ اس جواب کے وقت کتنے لوگ بول اٹھیں گے کیا ہم خدا پر ایمان نہیں رکھتے ؟ کیا ہم خدا سے نہیں ڈرتے اور اس سے محبت نہیں رکھتے ؟ اور کیا تمام دنیا بجر تھوڑے افراد کے خدا کو نہیں مانتی اور پھر وہ طرح طرح کے گناہ بھی کرتے ہیں اور انواع و اقسام کے فسق و فجور میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایمان اور چیز ہے اور عرفان اور چیز ہے ۔ اور ہماری تقریر کا یہ مدعا نہیں ہے کہ مومن گناہ سے بچتا ہے بلکہ یہ مدعا ہے کہ عارف کامل گناہ سے بچتا ہے یعنی وہ کہ جس نے خوف الہی کا مزہ بھی چکھا اور محبت الہی کا بھی ۔ شاید کوئی کہے کہ شیطان کو معرفت کامل حاصل ہے پھر وہ کیوں نافرمان ہے ۔ اس کا یہی جواب ہے کہ اس کو وہ معرفت کامل ہرگز حاصل نہیں ہے جو سعیدوں کو بخشی جاتی ہے۔ انسان کی یہ فطرت میں ہے کہ کامل درجہ کے علم سے ضرور وہ متاثر ہوتا ہے اور جب ہلاکت کی راہ اپنا ہیبت ناک منہ دکھاوے تو اس کے سامنے نہیں آتا مگر ایمان کی حقیقت صرف یہ ہے کہ حسن ظن سے مان لے۔لیکن عرفان کی حقیقت یہ ہے کہ اس مانی ہوئی بات کو دیکھ بھی لے۔ پس عرفان اور عصیان دونوں کا ایک ہی دل میں جمع ہونا محال ہے۔ جیسا کہ دن اور رات کا ایک ہی وقت میں جمع ہو جانا محال ہے۔ تمہارا روز مرہ کا تجربہ ہے کہ ایک چیز کا مفید ہونا جب ثابت ہو جائے تو فی الفور اس کی طرف ایک رغبت پیدا ہو جاتی ہے اور جب مضر ہونا ثابت ہو جائے تو فی الفور دل اس سے ڈرنے لگتا ہے مثلاً جس کو یہ معلوم نہیں کہ یہ چیز جو میرے ہاتھ میں ہے یہ سم الفار ہے وہ اس کو طبا شیر یا کوئی مفید دوا سمجھ کر ایک ہی وقت میں تولہ یا دو تولہ تک بھی کھا سکتا ہے لیکن جس کو اس بات کا تجربہ ہو چکا ہے کہ یہ تو زہر قاتل ہے وہ بقدر ایک ماشہ بھی اس کو استعمال نہیں کرسکتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے کھانے کے ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہو جائے گا۔ اسی طرح