گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 644 of 822

گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 644

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۴۰ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے عطا کرتا ہے ۔ یا یہ امید کر سکتے ہیں کہ اگر چہ موجودہ زمانہ تک کوئی امتیاز فیصلہ کرنے والے ظاہر نہیں ہوئے لیکن آئندہ وہ زمانہ آنے والا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ بدکاریوں اور بدمستیوں سے پر ہیز کرنے والے عیسائی ہوں گے۔ جو شخص یورپ کے ملکوں میں سے کسی ملک میں رہتا ہے وہ اگر چاہے گواہی دے سکتا ہے کہ یہ بیان درست ہے بلکہ ہر ایک دانشمند جس نے کبھی یورپ کی سیر کی ہے اور کچھ عرصہ پیرس وغیرہ میں رہ چکا ہے اس کو اس گواہی میں تامل نہیں ہوگا کہ اب بعض حصے یورپ کے اس حالت تک پہنچ گئے ہیں کہ قریب ہے کہ بہتوں کی نظر میں بدکاری کچھ گناہ ہی نہیں ہے۔ ان کے نزدیک ایک بیوی سے زیادہ نکاح حرام ہے مگر بد نظری حرام نہیں ۔ در حقیقت فرانس وغیرہ میں لاکھوں عورتیں ایسی پائی جائیں گی جن کو خاوند کی ضرورت نہیں۔ پس اب یا تو کہنا پڑے گا کہ ان کیلئے کوئی نئی آیت انجیل میں سے نکل آئی ہے جس سے یہ سب کا رروائیاں حلال ہوگئی ہیں یا ضرور یہ کہنا پڑے گا کہ (۲۳) خون مسیح کے نسخہ نے الٹا اثر کیا ہے اور دعوئی غلط نکلا ۔ لیکن سچ یہی ہے کہ یہ نسخہ صیح نہ تھا اور ایک شخص کے مرنے کو دوسرے شخص کے نجات پانے سے کوئی طبعی تعلق نہیں اور خدا کا زندہ ہونا تمام برکات کا مدار ہے نہ کہ مرنا اور سورج کے طلوع کرنے سے روشنی پیدا ہوتی ہے نہ کہ ڈوبنے سے۔ اور جبکہ اس نسخہ سے گناہوں سے پاک ہونے کا مقصود حاصل نہ ہو سکا تو وہ اصول بھی صحیح نہ رہا کہ یہ خدا کا بیٹا تھا جس نے اس نیت سے اپنے تئیں ہلاک کیا۔ ہم خدا کی نسبت ایسی موت تجویز نہیں کر سکتے کہ جان بھی گئی اور کام بھی نہ ہوا۔ اول تو یہ بات ہی خدا کے قدیم قانون قدرت کے مخالف ہے کہ خدا بھی موت اور فنا اور ہر ایک نقصان اور ذلت کو اپنے پر قبول کر کے ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ اس دعوے کو نہ تو کسی نظیر سے ثابت کیا گیا ہے تا یہ بات سمجھ میں آجائے کہ دو چار دفعہ پہلے بھی خدا نے ایسے طور سے جنم | لیا تھا۔ اور دل قرار پکڑ جائے اور نہ اس دعوی کو خدائی کرشموں کے ساتھ جو انسانی معجزات کی