گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 643 of 822

گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 643

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۳۹ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے کیسے ایک عاجز انسان کو رب العالمین سمجھ بیٹھے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ دنیا کے کاموں میں یہ ذہن رسا اور خداشناسی میں یہ عقل وذ کا ۔ اور جب ہم غور کریں کہ عیسائیوں اور مسلمانوں میں افراط تفریط کے رو سے ما بہ الامتیاز کیا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں ایسے لوگ بہت ہیں جو بنی نوع کے حقوق تلف کرتے ہیں اور عیسائیوں میں ایسے لوگ ہیں جو خدا کے حقوق کو تلف کرتے ہیں۔ کیونکہ مسلمانوں کو جہاد کے مسئلہ کی غلطی نے ایسا سخت دل کر دیا ہے کہ نوع انسان کی سچی محبت ان کے دلوں میں نہیں رہی ۔ لہذا ان میں سے وحشی لوگ کیسی (۲۲) ادنی غرض نفسانی یا جوش شیطانی کی وجہ سے بے گناہ انسان کا خون کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں اور بے آبرو کرنے اور مال چھینے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور بنی نوع کے حقوق کا ایک ضروری حصہ تلف کر کے انسانیت کو داغ لگا دیا ہے۔ پھر جب ہم عیسائیوں کے حالات کو غور کی نظر سے دیکھیں تو بکمال صفائی کھل جاتا ہے کہ انہوں نے خدا کے حقوق تلف کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا اور ایک عاجز انسان کو بے وجہ خدا بنا رکھا ہے۔ اور جس غرض کے لئے خدا بنایا گیا تھا وہ غرض حاصل بھی نہیں ہوئی ۔ اگر گناہ سے پاک ہونے کے لئے یہی نسخہ تھا کہ یسوع مسیح کے خون سے ایمان لایا جائے تو کیوں یہ نسخہ یورپ کے لوگوں کو دنیا پرستی اور طرح طرح کے ناجائز شہوات کے گناہ سے جن کا ذکر کرنا بھی جائے شرم ہے پاک نہیں کر سکا بلکہ بجائے اس کے فوق العادت ترقی ہوئی۔ کیا یورپ کے ملک بدکاریوں میں ایشیائی ملکوں سے کچھ کم ہیں؟ تو پھر اس غیر مؤثر نسخہ پر کیوں نظر ثانی نہیں کی گئی ۔ دنیا کی چند روزہ صحت کے لئے ہر ایک ڈاکٹر اور بیمار اس قاعدہ کا پابند رہتا ہے کہ جب ایک نسخہ سے ہفتہ عشرہ تک کوئی فائدہ نہیں ہوتا تو وہ نسخہ بدلنا پڑتا ہے اور کوئی اور احسن تجویز سوچی جاتی ہے تو پھر کیا وجہ کہ باوجود غلط ثابت ہونے کے اب تک یہ نسخہ بدلا یا نہیں گیا۔ کیا باوجود انہیں سو برس لا حاصل گزر جانے کے اب تک یہ خیال قابل وقعت ہے کہ خون مسیح پر ایمان لانا حقیقی نجات کو